انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 596
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۹۶ سورة البروج شامل رہے اور ایسے اعمال بجالاتے رہے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ناپسندیدہ تھے لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور انہیں اس بات کی توفیق دی کہ وہ تو بہ کر لیں اور جس گروہ کے وہ مخالف اور دشمن تھے ( مومنوں کا گروہ ) اس گروہ میں وہ شامل ہو جائیں اور ان کا وہ انعام پائیں اور جس جماعت کو وہ چھوڑ کے آئے ہیں ان کی سزا سے خود کو محفوظ کرلیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اس سورۃ کی پہلی آیات میں ) جس قسم کی دشمنی کا اظہار پہلی جماعت ، دوسری جماعت، غیر مومن منکر جماعت ، مومن جماعت کے خلاف کرتی ہے جس قسم کی ہلاکت کے منصوبے وہ بناتے ہیں ہلاکت کے لئے کوشش کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَهُمْ عَلیٰ مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُود۔جو کچھ وہ مومنوں سے کرتے ہیں ان سے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے دامن کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے اس کی حقیقت کو ان کی عقل بھی اور ان کی فطرت بھی ہمیشہ سمجھتی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ درست نہیں ہے۔وہ اس یقین پر قائم نہیں ہوتے کہ خدا تعالیٰ پر مضبوطی کے ساتھ حقیقی ایمان لانے والوں کے خلاف منصوبے بنا نا واقعہ میں ٹھیک بات ہے اور ہمیں ایسا کرنا چاہیے۔اس حقیقت پر قائم نہیں ہوتے۔افعال بد، خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ناپسندیدہ اعمال بھی کرتے ہیں اور دل سے یہ ندا بھی اٹھتی ہے کہ کہیں ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے گرفت نہ آ جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دشمنی جو وہ کرتے ہیں مومنین باللہ سے وہ کسی دلیل پر کسی صداقت پر کسی بچے واقعہ پر مبنی نہیں ہوتی۔وہ دشمنی صرف اس لئے کرتے ہیں کہ مومن اس اللہ پر ایمان لے آئے جو تمام صفات حسنہ سے متصف اور ہر قسم کے نقص اور کمزوری سے مبرا ہے۔وہ ہر قسم کی صفاتِ حسنہ سے ہے۔ان صفات میں سے جو صفات اس دشمنی کی وجہ بنیں ان کا یہاں ذکر کر دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کے بندوں کی دشمنی وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صفت عزیز سے متصف ہے اللہ تعالیٰ صفت حمید سے متصف ہے اللہ تعالیٰ مالک ہے۔صفت مالکیت سے وہ متصف ہے اور اللہ تعالیٰ صفتِ شہید سے متصف ہے چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ چار صفات اپنے ان بندوں کی زندگی میں اپنے جلوے دکھاتی ہیں جن کا وہ مشاہدہ بھی کرتے ہیں اس لئے حسد کی آگ ان کے دلوں میں بھڑکتی ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والوں سے دشمنی کرنے لگ جاتے ہیں۔