انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 50 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 50

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث سورة الاحزاب دُنیا میں بھی کامیاب اور اگر اس دُنیا سے چلے بھی گئے تو ہمیں اُخروی انعامات تو ضرور ملیں گے اور پھر اس حقیقی سہارے نے ان کو بے سہارا نہیں چھوڑا چنانچہ اس وقت جب کہ دشمن غالب آنے کی امید لگائے بیٹھا تھا اور وہ خوشی سے پھولا نہیں سماتا تھا۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ سے زمین و آسمان میں ایک تغیر پیدا ہوا اور وہ جو مسلمانوں کو مٹانے کے لئے آئے تھے بھاگ نکلے۔ریت کے چند ذرے کہہ لو، ہوا کی تھوڑی سی شدت کہہ لو یا اُن کے دلوں کے اندر فرشتوں نے جو بزدلی پیدا کی اور مسلمانوں کا جو رعب پیدا کیا وہ کہہ لو۔غرض یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے جلوے تھے جو انسان کو نظر آئے لیکن وہ اپنے محاصرے کے پہلے دن ہی نہیں بھاگے، وہ دوسرے اور تیسرے دن بھی نہیں بھاگے۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ نظارہ کئی دن کے بعد رونما ہوا۔یرموک کی جنگ کو لیں۔یہ پانچ دن کی جنگ ہوئی ہے اور خدا کی شان یہ ہے کہ حضرت خالد بن ولید کو طفیل محمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتا دیا گیا تھا کہ چار دن تک آزمائشوں کا دور ہوگا یعنی ان کے ذہن میں پہلے سے یہ تصور موجود تھا کہ چار دن دشمن کے اور پانچواں دن ہمارا ہو گا یعنی تین پہر دشمنوں کے ہوں گے اور چوتھا پہر ہمارا ہو گا چنانچہ دشمن اپنے وزن ، اپنی تعداد اور اپنے ہتھیاروں کے زور کے ساتھ مسلمانوں کو دھکیلتے ہوئے ان کے خیموں تک لے جاتا تھا۔مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر ایثار پیشہ فدائی مسلمان عورتیں خیموں کے ڈنڈے لے کر مسلمانوں کے سر پر مارتی تھیں کہ واپس جاؤ۔یہاں کیا لینے آئے ہو چنانچہ اگلے دن اور پھر اس سے اگلے دو دن بھی یہی حال ہوا۔اس معرکے میں کئی مسلمان شہید ہو گئے جن میں عکرمہ اور اس کے ساتھی بھی شامل تھے مگر کسی مسلمان نے پیٹھ نہیں دکھائی حتی کہ عکرمہ جیسے شخص نے پیٹھ نہیں دکھائی جو فتح مکہ تک اسلام کا دشمن رہا تھا کیونکہ عکرمہ اور اس جیسے دوسرے مسلمانوں کے دل بدل گئے۔حالات مختلف ہو گئے۔اندھیروں کی جگہ نور نے لے لی۔وہ جو اسلام کے دشمن تھے ان کے دل میں محبت پیدا ہو چکی تھی۔عکرمہ اور اس کے ساتھی اس خیال سے جلتے تھے کہ انہوں نے اپنے چہروں پر اسلام دشمنی کے داغ لگارکھے ہیں۔ان داغوں کو دھونے کے لئے خدا جانے ہمیں کوئی موقع ملتا ہے یا نہیں۔پس یہ لوگ بھی جو بعد میں آنے والے تھے ، دشمن کے مقابلے میں بھاگے نہیں۔کسی نے بزدلی نہیں دکھائی۔وہ خدا تعالیٰ سے نا امید نہیں ہوئے۔انہوں نے اللہ تعالیٰ پر بدظنی نہیں کی بلکہ کئی ایک