انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 585 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 585

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۵۸۵ سورة المطففين بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة المطففين آیت ۲۳ تا ۲۹ إِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِی نَعِيمٍ عَلَى الْأَرَابِكِ يَنْظُرُونَ ) تَعرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ : يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيقٍ مَخْتُومٍ ختمُهُ مِسْكَ وَ فِي ذَلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ وَمِزَاجُهُ مِنْ تَسْنِيمِ عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ لوگ جو نیکیوں میں آگے بڑھ جاتے اور سبقت لے جاتے ہیں انہیں مقام نعیم میں رکھا جاتا ہے ان کا مقام وہ مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر وقت نعمتوں کا نزول ان پر ہوتا رہتا ہے اور اس مقام نعیم کی وجہ سے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے وہ وافر حصہ پاتے ہیں ان کے چہروں پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی شادابی دنیا دیکھتی ہے محبت الہی میں ہر وقت وہ مست رہتے ہیں اور یہ محبت الہی ان کے رگ وریشہ میں کچھ اس طرح سرایت کر جاتی ہے کہ ان کے وجود مشک کی طرح مہک اٹھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی خوشبو لوگ بھی ان کے وجود سے سونگھتے ہیں فرمایا کہ یہ وہ مقام ہے کہ ایک خواہش کرنے والے، ایک آرزو کرنے والے کو چاہیے کہ اس مقام کی خواہش کرے اس سے نیچے کی خواہش تو کوئی خواہش نہیں۔انسان کو اس مقام کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہی آرزو ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مقام نعیم عطا کرے اور یہ وہ مقام ہے کہ حقیقی عزت اور حقیقی شان انسان کی اسی مقام میں ہے۔ایک دنیا دار انسان کو ساری دنیا کی بادشاہتیں بھی حقیقی عزت عطا نہیں کر سکتیں اگر ساری دنیا کی بادشاہتیں اکٹھی ہو کر یہ فیصلہ کریں کہ