انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 573
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۵۷۳ سورة النبأ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة النبا و آیت ۱۰ وَجَعَلْنَا نَومَكُمْ سُبَاتًا تمہاری نیند کو تمہارے لئے راحت کا باعث بنایا ہے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس میں کوئی حکمت ہونی چاہئے۔یہ کہنے سے کہ ہم نے تمہاری نیند کو تمہارے لئے راحت کا باعث بنایا ہے اس میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ایک حکمت یہ ہے کہ خدا یہ کہتا ہے کہ اگر میں تمہارا حق تسلیم نہ کرتا کہ تم اپنی زندگی کے کچھ لمحات راحت اور آرام اور اپنی طاقتوں کو زیادہ مضبوط بنانے اور پوری طاقت حاصل کرنے کے لئے نیند لو تو تمہارا کوئی حق نہیں تھا کہ تم سوتے۔لیکن چونکہ تمہارے جسم کو میں نے اس طرح بنایا ہے کہ تمہارا دل اور تمہارا دماغ اور تمہارا جسم کوفت محسوس کرے گا اور چاہے گا کہ میں نیندلوں اس لئے ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ان لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَأَعْطِ كُلَّ ذِى حَقِّ حَقَّهُ (بخاری کتاب الصوم) اور تیرے نفس کا ایک حق یہ ہے کہ جب وہ تھک جائے اور اس کو راحت اور آرام کی ضرورت پڑے تو وہ سو جائے۔پس ہماری زندگی کے سارے لمحات اللہ تعالیٰ کے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارے لئے سونے کا حق پیدا کیا اور ہمیں اجازت دی کہ سو جاؤ ورنہ خدا کا مومن بندہ مرجاتا مگر اونگھتانہ، اس کو دوسری طرف یہ بھی تو حکم تھا نا ! کہ تخلّقُوا بِأَخْلاقِ اللہ اور وہ خدا تعالیٰ کی سنت دیکھتا کہ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمُ (البقرة:۲۵۶) اور کہتا کہ میں بھی نہیں سوؤں گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے کہا پھر تو اپنی اس زندگی کو کامیاب نہیں بنا سکتا۔تیرے قومی آہستہ آہستہ کمزور ہوتے چلے جائیں گے۔حالانکہ تیری ذمہ داریاں تو آہستہ آہستہ بڑھتی