انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 557 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 557

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة القيامة اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة القيامة آیت ١٠ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ قرآن کریم نے کچھ زبر دست پیشنگوئیاں کی ہیں اور اللہ تعالیٰ بھلا کرے ان لوگوں کا جنہوں نے خدا تعالیٰ سے پیار کیا اور اس کی نگاہ میں وہ پاکیزہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو معانی قرآن، تفسیر قرآن سکھائی۔انہوں نے ایسی تفسیریں کی ہیں کہ جو صدیوں پہلے واقعات سے کی ہیں وہ درست ثابت ہوئیں۔تو قرآن کریم میں میرے خیال میں بیسیوں ایسی آیات ہیں جن میں آنے والے مہدی معہود کے زمانے کا ذکر ہے اور زمانہ سے ان کا تعلق ہے اور پیشنگوئیاں ایسی ہیں جن میں سے بہتوں سے مہدی کا تعلق ہے کہ اس نے ان سے فائدہ اٹھانا تھا۔اس وقت میں قرآن کریم کی بھی اختصار کے ساتھ ساری باتیں نہیں بیان کر سکتا کیونکہ وہ خود ایک بڑا لمبا مضمون بن جاتا ہے۔بڑے اختصار کے ساتھ میں بعض باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اور وہ یہ ان کو ہمارے محاورہ میں وہ آثار نبویہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں۔وہ آیات قرآنیہ اور آثار نبویہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں وہ آیات قرآنیہ اور آثار نبو یہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں اور پورے ہو گئے جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ پہلوں کو خدا تعالیٰ نے علم سکھا یاور نہ وہ اگر ایسی کوئی تفسیر کر دیتے جو عملاً انسانی تاریخ میں وہ واقعہ ہی نہ ہوتا تو ہم یہ تونہیں کہہ سکتے کہ نعوذ باللہ قرآن کریم میں غلط بات آئی ہے۔ہمیں یہ کہنا پڑتا کہ جو مفسر نے کہا ہے۔اس نے غلطی کھائی اور قرآن کریم کی اس آیت کا یہ منشا نہیں تھا جو منشا سمجھا گیا اور بیان کیا گیا جیسا کہ