انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 555 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 555

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۵۵ سورة المدثر میں پوری قربانیاں دینے کے قابل ہو جاتے لیکن انہوں نے نہ خدا کا حق ادا کیا نہ انسان کا حق ادا کیا اور نہ ہی اپنے نفس کا حق ادا کیا اس لئے خدا تعالیٰ نے انہیں جہنم میں ڈال دیا۔یہ وجہ بن گئی ان کے جہنم میں آنے کی۔خدا تعالیٰ اسی سورت میں آخر میں فرماتا ہے۔بیچ میں دوسری آیتیں ہیں میں ان کو چھوڑتا ہوں یہ ایک لمبا مضمون ہے۔میں صرف ایک ٹکڑے کو لیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ (عبس:۱۲) قرآن کریم ایک نصیحت ہے۔فَمَنْ شَاءَ ذكره (عبس : ۱۳) جو چاہے نصیحت حاصل کرے ہر شخص آزاد ہے۔یہ آزادی خدا تعالیٰ نے دی ہے۔قرآن کریم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ایک کامل تعلیم اور کامل شریعت انسان کے ہاتھ میں دے دی ہے۔انسان پر جبر نہیں کیا گیا یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ نہیں فرما یا کہ تیرے لئے اس کا انکار ممکن ہی نہیں بلکہ فرمایا تیرے لئے اس عظیم تعلیم کا انکار اور اس سے بے اعتنائی برتناممکن ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کسی شخص کو ہدایت دینا یا نہ دینا یہ خدا کا کام ہے۔هُوَ اهْلُ التَّقْوَى وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ (المدثر : ۵۷) خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں نیکی کی باتیں بھی بتائیں اور نیکی اور تقویٰ کی راہیں بھی انسان پر کھولیں اور ان دو چیزوں میں فرق ہے۔مثلاً ایک ہے خرچ کرنا اور ایک ہے دوسروں پر خرچ کرو۔اور ان کا حق ادا کرو۔“ اور یہ حکم ہے لیکن کن راہوں پر چل کر صحیح خرچ ہو سکتا ہے یہ خدا تعالیٰ نے بتادیا ہے۔تقویٰ کی راہوں کی تعیین بھی خدا تعالیٰ نے کر دی ہے اور اگر انسان اپنی بشری کمزوری کے نتیجہ میں بھٹک جائے تو مغفرت اور توبہ کے سامان بھی اس کے لئے پیدا کر دیئے گئے ہیں۔اس بیان کو تعلق باللہ پر ختم کیا۔فرمایا خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق قائم کرنا، اس کے حقوق کی ادائیگی کرنا، انسانوں کا خیال رکھنا، ان کے حقوق کی ادائیگی کرنا، اپنے نفس کی طاقتوں کو ضائع نہ کرنا، خود اپنے نفس کا خیال رکھنا، اپنے نفس کی صحیح نشوونما کرنا، خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو اختیار کرنے کے قابل ہو جانا، یہ طاقت ہونا کہ انسان اپنے دائرہ استعداد کے اندر نیکیوں میں بڑھتا چلا جائے یہ سب کچھ اپنے زور کے ساتھ تو نہیں ہوسکتا۔یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خدا تعالیٰ سے دعاؤں کے ذریعہ قوت اور طاقت حاصل نہ کی جائے کیونکہ خدائے قادر و توانا جو تقویٰ والا ہے جس نے تقویٰ کی راہیں معین اور واضح کر دیں اسی سے ہدایت مانگنی