انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 554 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 554

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۵۴ سورة المدثر قرآن کریم کی ہدایت یہ بتارہی تھی کہ خدا اپنے بندوں سے یہ چاہتا ہے کہ ہر انسان کی عزت اور شرف کو قائم کیا جائے اور قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اس ساری کائنات کو سارے انسانوں کی بہبود اور فلاح کے لئے پیدا کیا گیا ہے مثلاً گندم ہے اسے ہم نے اس موسم میں بویا ہے یا کچھ بوئی جارہی ہے۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے اگر ہماری کوشش میں برکت ڈالے اور اس کے نتیجہ میں ہمارا ملک گندم میں خود کفیل ہو جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ہمارے ملک کے ایک حصے کے لئے خدا تعالیٰ نے وہ گندم پیدا کی ہے بلکہ اس میں پاکستان کے سارے شہری حق دار ہوں گے جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الداريات: ۲۰) پس دوزخیوں نے جواب دیا کہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز پر انسان کے لئے ، اس کی فلاح کے لئے ، اس کی بہبود کے لئے ، اس کی تکالیف کو دور کرنے کے لئے ، اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ، اس کی قوتوں کی نشو و نما کے لئے اور اس کی ترقیات کے لئے پیدا کی تھی لیکن وہ غاصب بن گئے اور خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء میں جو غیر کا حق تھا اس کو بھی انہوں نے اپنا بنا لیا اور دوسرے لوگوں کو محروم کر دیا اور یہ خیال نہ کیا کہ اس دنیا میں انسان انسان میں فرق کرنے کی بہت سی حکمتیں ہیں جنہیں قرآن کریم نے دوسری جگہ بیان کیا ہے اور اس کے نتیجہ میں یہ نظر آتا ہے کہ کچھ گندم پیدا کرنے والے اور کچھ گندم کے مالک بن جانے والے اور کچھ کپڑا بنانے والے اور ان کے مالک بن جانے والے اسلام کی تعلیم کے مطابق یہ سارے پھر بانٹ کے کھانے والے ہیں۔غرض دوزخیوں سے سوال یہ تھا کہ تمہیں دوزخ کی طرف کیا چیز لے گئی تو انہوں نے کہا کہ انہیں دوزخ کی طرف لے جانے والی دوسری چیز یہ تھی کہ انہوں نے انسان کے حقوق غصب کئے اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں کو تاہی برتی۔دوزخیوں نے تیسری بات یہ کہی اور یہ دراصل پہلی دو باتوں کی بنیاد بنتی ہے کہ انہوں نے اپنے حقوق کا بھی خیال نہیں رکھا۔خدا تعالیٰ نے انہیں زندگی دی ، طاقتیں دیں، صحت دی، وقت دیا اور یہ چاہا کہ وہ معمور الا وقات رہیں۔زندگی کا کوئی لمحہ ضائع نہ جائے اور اس کے ضیاع سے نقصان نہ پہنچے لیکن انہوں نے اپنے اوقات کو کار پر لگانے کی بجائے نَخُوضُ مَعَ الْخَابِضِينَ بے حکمت اور لغو باتوں پر خرچ کیا اور اس طرح اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو ضائع کر کےخودا پنی Personality (شخصیت)، اپنے وجود، اپنی ہستی کو نقصان پہنچایا۔اگر خدا تعالیٰ کی نعمت سے پورا فائدہ اٹھاتے تو خدا تعالیٰ کی راہ