انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 552
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۵۲ سورة المدثر اللہ تعالیٰ نے انہیں جو وقت عطا کیا ہے اور زندگی دی ہے اس کی بڑی قیمت ہے اس کی بڑی قدر کرنی چاہیے اور یہ سارے گناہ وہ اس لئے کرتے تھے کہ انہیں یقین تھا یہی ورلی زندگی ہے۔موت کے ساتھ ان پر حقیقی فنا آ جائے گی اور انہیں کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہونا پڑے گا اس لئے دلیری کے ساتھ وہ یہ باتیں کیا کرتے تھے۔پہلی بات یہ ہے کہ وہ صلوٰۃ ادا نہیں کرتے تھے۔اس میں ایک تو وہ فرض نماز بھی آتی ہے جس کے متعلق یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی شرعی عذر نہ ہو تو پانچ وقت مسجد میں اکٹھے ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور نماز ادا کی جائے اور خدا تعالیٰ کا ذکر کیا جائے کیونکہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات:۵۷) کی رو سے اللہ تعالیٰ نے اپنا عبد بننے کے لئے انسان کو پیدا کیا ہے۔پس جب خدا تعالیٰ نے انسان کو عبد بننے کے لئے پیدا کیا ہے اور انسان کو پیدا کرنے کا یہی بنیادی مقصد ہے تو انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا عبد بنے۔چنانچہ دوزخی یہ کہیں گے کہ انہیں پیدا کیا گیا تھا کہ وہ خدا کے عبد بنیں، اس سے تعلق پیدا کریں دعا کے ساتھ اور خدا کے حضور عاجزانہ جھک کر۔لیکن خدا کا عبد بننے کی بجائے وہ اپنے نفس کا عبد بن گئے۔شیطانی وساوس کا عبد بن گئے یا شیطان کے چیلے بن گئے۔خدا تعالیٰ کی کوئی پرواہ نہیں کی، اس کا کوئی خیال نہیں رکھا۔خدا کے قرب کی راہوں کو انہوں نے اختیار نہیں کیا۔انہوں نے خدا سے تعلق پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔اس کے لئے انہوں نے کوئی مجاہدہ نہیں کیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خدا سے دور ہو گئے اور اس کے غضب اور قہر کی جہنم کے وارث بن گئے۔پس پہلا بنیادی فرض انسان پر اس حق کی ادائیگی ہے جس کو ہم عام طور پر حقوق اللہ کہتے ہیں لیکن یہ بات ہمیں ہر وقت یا درکھنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ تو کسی کا محتاج نہیں ، اسے کسی انسان یا کسی اور ہستی یا وجود کی احتیاج سرے سے ہے ہی نہیں، اس لئے کہ وہ کامل قدرتوں والا اور ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔خدا جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔اس کے سامنے کسی کو دم مارنے کی طاقت نہیں۔دنیا کی ہر چیز خدا کے مقابلے میں مرے ہوئے کیڑے کی حیثیت نہیں رکھتی۔پس جب ہم حقوق اللہ کی ادائیگی کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اگر ہم ان حقوق کو ادا نہیں کریں گے تو خدا کو نقصان پہنچے گا۔خدا کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ وہ توغنی اور صمد ہے اسے کسی چیز کی احتیاج نہیں۔اس کا مطلب تو صرف یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے بندہ کو پیدا کیا تھا بندہ