انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 551
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۵۱ سورة المدثر طرح ساتھیوں کو اور دوسرے تعلق رکھنے والوں کو بھی ہمارا مذہب ثیاب کے لفظ سے یاد کرتا ہے جب ہم ان تمام معانی پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ ہم پر طہارت کی بہت سی ذمہ داریاں ہیں اور ہمیں پاکیزگی کے متعلق بہت سے احکام دیئے گئے ہیں جن کی طرف توجہ دینا ضروری ہے خصوصاً ایسے موقعوں پر جبکہ اجتماعات کی وجہ سے جسمانی پاکیزگی اور ماحول کی پاکیزگی اور فضا کی پاکیزگی اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔(خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۲۳۰،۲۲۹) اللہ تعالیٰ کے زیادہ سے زیادہ فضلوں کو حاصل کرو جن کا پاکیزگی کے ساتھ تعلق ہے اور پاکیزگی کا تو تبلیغ کے ساتھ بھی بڑا تعلق ہے چنانچہ قُم فَانْذِرُ کے بعد کہا وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ اس لئے جب تک انسان اپنے ماحول کو پاکیزہ نہیں کرتا اور آنے والوں اور دیکھنے والوں کے لئے اسے ایک نمونہ نہیں بنا تا اس وقت تک وہ بھی معنی میں صحیح طور پر صحیح رنگ میں تبلیغ بھی نہیں کر سکتا اور نہ انذار کر سکتا ہے۔( خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۲۳۶) آیت ۴۳ تا ۴۸ ۵۷ مَا سَلَكَكُمْ فِي سَفَرَ قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ لا المُصَدِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَابِضِينَ ) وَكُنَّا نُكَذِبُ بِيَوْمِ الدِّينِ في حَتَّى اثْنَا الْيَقِينُ۔وَمَا يَذْكُرُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ هُوَ اَهْلُ التَّقْوَى وَاَهْلُ المَغْفِرَةِ۔ان آیات سے پہلے جنتوں کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جنتی دوزخ میں جانے والوں سے سوال کریں گے ما سلككم في سقر تمہیں جہنم کی طرف کیا چیز لے گئی ؟ تو وہ جواب میں تین باتیں کہیں گے جن کا یہاں ذکر ہے اور وہ تینوں باتیں اصولی ہیں اور انسان کی ساری زندگی کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔دوزخی جواب میں کہیں گے کہ وہ جہنمی اس لئے بنے کہ وہ صلوۃ ادا نہیں کرتے تھے اور دوسرے یہ کہ وہ مسکین کا خیال نہیں رکھتے تھے۔وہ اُسے کھانا نہیں دیتے تھے اور تیسرے یہ کہ وہ اپنا وقت ضائع کیا کرتے تھے۔مجلسوں میں بیٹھ کر بے حکمت باتیں کرتے رہتے تھے اور یہ خیال نہیں کرتے تھے کہ