انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 550
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث تمہیں کثرت حاصل ہو جائے۔۵۵۰ سورة المدثر وَلِرَيكَ فَاصْبِرُ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے جماعت احمد یہ! ہم ایسے حالات پیدا کرنے والے ہیں کہ تم ظالموں سے انتقام لینے کے قابل ہو جاؤ گے لیکن ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ انتقام بھی نہ لینا۔اور لِرَبّكَ فَاصْبِرُ اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے صبر سے کام لینا۔میں جماعت کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ آئندہ پچیس تیس سال جماعت احمدیہ کیلئے نہایت ہی اہم ہیں کیونکہ دنیا میں ایک روحانی انقلاب عظیم پیدا ہونے والا ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کون سی خوش بخت قو میں ہوں گی جو ساری کی ساری یا ان کی اکثریت احمدیت میں داخل ہوں گی وہ افریقہ میں ہوں گی یا جزائر میں یا دوسرے علاقوں میں لیکن میں پورے وثوق اور یقین کے ساتھ آپ کو کہہ سکتا ہوں کہ وہ دن دور نہیں جب دنیا میں ایسے ممالک اور علاقے پائے جائیں گے جہاں کی اکثریت احمدیت کو قبول کر لے گی اور وہاں کی حکومت احمدیت کے ہاتھ میں ہوگی۔وَلِرَبَّكَ فَاصْبِرُ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں تمہیں ان نعمتوں سے نوازوں تو تمہارا فرض ہوگا کہ تم بنی نوع انسان سے نرمی اور محبت کا سلوک کرو اور ان کی ایذا دہی کو خدا کی خاطر سہہ لو۔اگر ان کے منہ سے سخت کلمات نکلیں۔اگر وہ بے ہودہ حرکتیں کریں اگر وہ تمہیں چڑا ئیں تو باوجود اس کے کہ تم انہیں اپنی طاقت سے خاموش کرا سکتے ہو اور انہیں بے ہودہ حرکتوں سے باز رکھ سکتے ہو ہم تمہیں یہی کہتے ہیں کہ ہماری رضا کی خاطر صبر سے کام لینا اور ان پر سختی نہ کرنا۔پس اپنے رب کو خوش کرنے کے لئے اس کی برکات کے حصول کے لئے اس کی رحمتوں کو جذب کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تم صبر سے کام لو۔ٹھٹھے کے مقابلہ میں ٹھٹھا اور جنسی کے مقابلہ میں ہنسی اور ظلم کے مقابلہ میں ظلم نہ کرو۔ہمیں قرآن عظیم کا یہ حکم ہے کہ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ اس چھوٹی سی آیت میں اللہ تعالیٰ نے طہارت کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا ہے اس میں ایک تو انسان کو یہ توجہ دلائی ہے کہ اپنے جسم کو اور اپنے کپڑوں کو پاکیزہ رکھا کرو۔گندگی خواہ جسمانی ہو یا روحانی قرآن عظیم کی تعلیم اس کو دور کرنا چاہتی ہے۔پھر قرآن کریم کے محاورہ میں اسلامی تعلیم کے محاورہ میں شیاب کے معنی میں ماحول بھی آتا ہے اور وہ لوگ بھی آتے ہیں جو کہ تعلق رکھنے والے ہوں مثلاً میاں بیوی کو ( ثوب ) لباس کہا گیا ہے۔اسی (خطبات ناصر جلد اول ۳۶ تا ۴۳)