انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 549 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 549

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۴۹ سورة المدثر لوگوں کو خدا تعالیٰ سے متعارف کرنے والے ہو۔پس ہر حالت میں ہر قسم کے شرک کو چھوٹا ہو یا بڑا باطنی شرک ہو یا ظاہری شرک اسے مٹانے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔کیونکہ اس کے بغیر آج دنیا کی نجات ممکن نہیں۔وَلَا تَمنن تستكثر فرمایا کہ ہم ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں۔معجزات کے ذریعہ نشانات کے ذریعہ، دعاؤں کی قبولیت کے ذریعہ اور ملائکہ کے نزول کے ذریعہ جو دنیا میں انتشار روحانی پیدا کر رہے ہیں اور لوگوں کے دلوں کو خدا تعالیٰ کی طرف، خدا کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مسیح محمدی کی طرف اور جماعت احمدیہ کی طرف پھیر رہے ہیں۔پس ایسے حالات پیدا ہور ہے ہیں کہ دنیا کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ احمدیت اور اسلام ایک ایسی صداقت ہے کہ جو انہیں اپنی بقاء کی خاطر ہر قیمت پر قبول کرنی چاہیے۔پھر تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کے ذریعہ اور حضرت مصلح موعود کی تفسیر کے ذریعہ ایسے دلائل مل چکے ہیں کہ دنیا کی کوئی عقل انہیں رد نہیں کر سکتی۔جب تمہیں ہر قسم کے نشان اور دلائل دے دیئے گئے ہیں تو گویا کامیابی کی کنجی اور فتح کی کلید تمہارے ہاتھ میں پکڑا دی گئی ہے اس لئے تمہیں ہر گز ضرورت نہیں کہ کسی کو خوشامد، لالچ یا جبر کے ذریعہ مسلمان بناؤ۔تو ولا تمنن تستکثر میں آزادی مذہب کو، آزادی فکر کو، اس خوبی اور حسن کے ساتھ تسلیم کیا گیا ہے اور اس کو قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔فرمایا۔احسان کرنا اس نیت سے کہ کوئی شخص ہمارے احسان کے دباؤ سے لا اله الا اللہ پڑھ لے جائز نہیں۔اسی طرح جبر کرنا بھی جائز نہیں کہ ایسے حالات پیدا کر دئے جائیں کہ کسی شخص کو سوائے کلمہ پڑھنے کے کوئی جائے فرار نظر نہ آتی ہو جیسا کہ آج کل کی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں نے کشمیر میں مسلمانوں کو شدھ کرنے کی مہم بھی شروع کر دی ہے۔ہر قسم کے ظلم ڈھائے جارہے ہیں۔خاوندوں کو قتل کر کے عورتوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔بچوں کو شہید کر کے والدین کو مجبور کیا جارہا ہے۔کہ وہ ہندو مذہب کو اختیار کر لیں۔اسلام اسے ہرگز پسند نہیں کرتا بلکہ اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اسلام اس کی مذمت کرتا ہے اور ایسا کرنے والوں کو خدا کے غضب اور قہر کا مورد قرار دیتا ہے۔تو فرماتا ہے ولا تمنن کہ کسی پر کسی قسم کا جبر نہ کرنا۔اس غرض سے کہ تمہاری تعداد بڑھ جائے اور