انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 548 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 548

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۴۸ سورة المدثر آئے تو فوراً اسے بند کر دو۔یا کہیں تمہیں کوئی جسمانی، اخلاقی ، روحانی نجاست نظر پڑے تو اسے دور کرنے کی کوشش میں فوراً لگ جاؤ۔اگر تم چوکس ہو کر اپنے ماحول کو پاک رکھو گے تو اللہ تعالیٰ بھی تمہیں اپنی برکتوں سے نوازے گا۔پھر فرمایا وَ الرجز فاجر اور گندگی کو دنیا سے بالکل مٹا دو کیونکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے دنیا تباہی کی طرف جا رہی ہے اور امن کا ایک ہی ذریعہ ہے۔وہ یہ کہ دنیا امن کے شہزادہ کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لے آئے۔وہ آپ کو مانیں اور آپ کی ہدایات کے مطابق اس اسلام پر عمل کریں جو خالص اسلام ہے۔اور جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی بہتری اور بہبودی کے لئے لے کر آئے تھے۔پس وَالرُّجْزَ فَاهُجُرُ کے معنی یہ ہوئے کہ تو دنیا کی ایسے رنگ میں اصلاح کر۔اپنے اخلاق سے اپنے دلائل سے اپنی قبولیت دعا کے نشان سے اور ان نشانات آسمانی سے جو خدا تعالیٰ تمہارے لئے مقدر کرے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے لگیں۔اور اس عذاب میں مبتلا نہ ہوں جو دوسری صورت میں ان کے لئے مقدر ہو چکا ہے۔وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ شرک سے بچو۔ایک شرک تو ظاہری ہے وہ یوں کہ بتوں کی پرستش کی جائے۔اس شرک میں سوائے نہایت ہی جاہل شخص یا جاہل قوم کے اور کون مبتلا ہو سکتا ہے۔لیکن شرک کی بہت باریک راہیں بھی ہیں ان سے بچتے رہنا بھی نہایت ضروری ہے۔حقیقت یہی ہے کہ جب تک ہم لاشی محض ہو کر کلیۂ خدا تعالیٰ کے آستانہ پر نہ جھک جائیں اور اس کے حضور نہ گرے رہیں اس وقت تک ہم تو حید کے حقیقی مقام پر کھڑے نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ شرک کی باریک راہوں سے بھی بچو۔اور اس کے مقابل تقوی کی باریک راہوں پر گامزن رہو۔تمہارے خیالات ہر قسم کے شرک سے پاک ہوں۔تمہارا دل ہر قسم کے شرک کی نجاست سے مطہر ہو۔اور تمہاری آنکھوں میں توحید کی چمک۔اس کی ضیاء اور اس کا نور ہو اور تمہارے اعمال توحید کی طرف بلانے والے ہوں اور تمہارے اندر سے ایسا نور نکلے کہ جس ماحول میں بھی تم چلے جاؤ اس ماحول کے لوگ تمہاری طرف اس لئے کھچے آئیں کہ تم ان