انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 535
۵۳۵ سورة الجن تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اجازت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرنی ہے تو ان کے ساتھ کھڑے ہو کر کیوں نہ کرلیں۔وہ ساتھ کھڑے ہو گئے۔جس دن افتتاح تھا میں نے افتتاح کے ساتھ ہی جمعہ پڑھایا۔اس دن تو یہ ہوا کہ تین سو غیر مسلم ہمارے ساتھ کھڑا ہو گیا۔انہوں نے ادھر اُدھر دیکھ کر عبادت کی۔جب رکوع میں گئے تو ان کو کچھ پتہ نہیں تھا انہوں نے ادھر اُدھر دیکھا اور کہا اچھا اس طرح رکوع کرتے ہیں پھر وہ رکوع میں گئے۔پھر جب کھڑے ہوئے تو پھر انہوں نے ادھر اُدھر دیکھا اور کھڑے ہو گئے۔پھر جب سجدہ میں گئے تو وہ بھی ادھر ادھر دیکھ کر سجدہ میں گئے۔انہوں نے پوری نماز اس طرح پڑھی اور اسی طرح پڑھ رہے ہیں کیونکہ ان کو تو پتہ نہیں۔بہر حال وہ ساتھ شامل ہو گئے۔صرف اس اعلان پر جو قرآن کریم نے کہا ہے، بڑا عظیم اعلان ہے صلح اور امن اور سلامتی کا اعلان کہ آن الْمَسْجِد الله - قرآن کہتا ہے کہ مسجد خدا کا گھر ہے خدائے واحد و یگانہ کی ، ایک خدا کی اگر کوئی پرستش کرنا چاہے تو خواہ وہ کسی مذہب کسی خیال کسی عقیدہ کا ہو میرے گھر کے دروازے اس کے لئے کھولو۔مسجد کو خدا نے آ کر تو نہیں سنبھالنا تھا وہ عظیم ہستی ہے وہ مادی چیز تو نہیں اس واسطے فتنہ وفسا دکو دور کرنے کے لئے قرآن کریم نے اعلان کیا کہ مسجد کا کسٹوڈین وہ ہے لَمَسْجِدٌ أَيْسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ (التوبة : ۱۰۸) مسجد کا کسٹوڈین اور اس کا متولی وہ ہے جو مسجد کی نیت سے خدا کا وہ گھر بناتا ہے۔کسی اور کو وہاں آکر فتنہ کھڑا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔قرآن کریم کو کوئی نہ مانے تو اس کی مرضی مگر قرآن کریم نے فتنہ کا دروازہ بند کر دیا ہے قرآن کریم نے کہا کہ جس نے مسجد بنائی ہم اس کو مسجد ہی کہیں گے یعنی اگر کوئی گروہ ایسا ہے کہ خدا کی نگاہ میں بھی اس کی مسجد قابل قبول نہیں تو قرآن کریم نے اعلان کیا کہ تب بھی خدا اسے مسجد ہی کہے گا اور جو مجھ سے پیار کرنے والے ہیں وہ اسے مسجد ہی کہیں گے۔باقی اگر کسی کی نیت میں فتور ہے تو میں آپ ہی سمجھ لوں گا اس کے ساتھ تمہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔پس ایک تو یہ کہ مسجد بنانے والا اس کا متولی ہے۔یہ اعلان کیا ہے قرآن کریم نے۔قرآن عظیم بڑی عظیم کتاب ہے۔شرط یہ ہے کہ ہم اس کو اپنے لئے مشعل راہ بنا ئیں۔چنانچہ میں نے بتایا ہے کہ دس ہزار آدمی اب تک ہمارے ساتھ نماز پڑھ چکا ہے اور کوئی فتنہ نہیں کوئی فساد نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد، مسجد نبوی، دنیا کی مقدس ترین مساجد میں سے ایک ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ سب سے زیادہ مقدس ہے وہاں آپ نے نجران کے یونیٹیرین (unitarian ) یعنی موحد عیسائیوں