انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 528
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۵۲۸ سورة الجن اور ہم سے ایک ہزار سال بعد اگر دنیا ر ہی تو اس وقت کے انسان کو بھی قرآن کریم مخاطب کر کے یہی کہے گا۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: (۲۸) کہ تمہاری وسعت کے مطابق تم پر بار ڈالا جائے گا اس میں کسی فلسفے کی ضرورت نہیں ہے۔شریعت میں اتنی لچک ضرور ہونی چاہیے کہ ہر فرد کی طاقت کے مطابق اس کی ہدایتیں بدلتی چلی جائیں۔قرآن کریم کے بہت سے احکام میں سے مثلاً روزہ کو لے لو۔ایک صحت مند بچہ ہے اور نظر آ رہا ہے کہ وہ پہلوان بننے والا ہے لیکن دس سال کی عمر میں خدا تعالیٰ نے اُسے فرمایا کہ روزہ نہیں رکھنا کیونکہ ابھی تم میں روزے کی طاقت پیدا نہیں ہوئی۔اب امریکہ میں جو نئے تجربے کئے گئے ہیں واللہ اعلم کب تک ان کو صحیح سمجھا جائے گا۔ان تجربات کی رُو سے اٹھارہ سال کی عمر تک انسان کھانے کے اعتبار سے بچہ متصور ہوتا ہے چنانچہ انہوں نے غذا کا ایک فارمولا بنایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر تک کا بچہ ( کھانے کے لحاظ سے وہ بچہ ہے ) جس وقت جس چیز کی جتنی مقدار میں خواہش کرے وہ اسے ملنی چاہیے۔تب اس کی (جسمانی) صحیح نشوو نما ہو سکتی ہے اسی واسطے اٹھارہ سال کی عمر سے کم کے بچوں کو عادت ڈالنے کے لئے تو کچھ روزے رکھوانے چاہئیں لیکن ایک مہینہ کے لگا تار روزے نہیں رکھوانے چاہئیں کیونکہ رمضان کے لئے وہ عمر بلوغت نہیں ہے رمضان کا تعلق انسان کی روح سے بھی ہے مثلاً تنویر قلب ہوتی ہے۔رُوح میں روشنی اور بشاشت پیدا ہوتی ہے۔انسان پر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہو جائے تو وہ روحانی طور پر ترقی کر کے کہیں سے کہیں جا پہنچتا ہے۔۔۔۔۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَخَافُ رَهَقًا کہ اے انسان! خواہ تیری صحت کیسی ہو! خواہ تیری عمر کتنی ہو! خواہ تیر اما حول کیا ہو! تیری طاقت کے خلاف یا تیری طاقت سے بڑھ کر بوجھ تمہارے اوپر نہیں ڈالا جائے گا۔پھر مثلاً نماز ہے۔بڑا زور دیا ہے کہ مسجد میں آ کر نماز پڑھو لیکن یہ نہیں کہا کہ ہر فرد کے لئے مسجد میں آکر نماز پڑھنا ضروری ہے ورنہ وہ کافر ہو جائے گا۔یہ اسلام میں نہیں ہے۔اسلام نے کہا ہے کہ جو آدمی بیمار ہے وہ اپنے گھر پر نماز پڑھ لے۔نماز کی ایک ظاہری شکل بنائی ہے مثلاً ہم کھڑے ہوتے ہیں پھر رکوع کرتے ہیں پھر کھڑے ہوتے ہیں۔پھر سجدہ میں جاتے ہیں۔پھر دوسجدوں کے درمیان بیٹھتے ہیں۔پھر ہم التحیات یعنی قعدہ میں بیٹھتے ہیں لیکن ایک بیمار شخص ان ساری اشکال کے مطابق یا