انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 527 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 527

۵۲۷ سورة الجن تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث جہالت اور کم علمی کا خوف کیسے ہوگا۔ہر زمانہ اور ہر ملک کو اس طرف توجہ دلائی کہ زمان و مکاں کے بدلے ہوئے اور مختلف حالات میں یہ قرآن عظیم تمہاری کامل رہبری کے لئے کافی ہے آب و ہوا کے لحاظ سے غذا میں مختلف ہو گئیں۔پھر مختلف غذاؤں کے نتیجہ میں انسان پر ان کے اثرات مختلف ہو گئے اور اس کے نتیجہ میں بعض جگہ بعض اخلاق کی نگرانی کی زیادہ ضرورت پڑ گئی اور بعض اخلاق کی طرف ( بعض دوسرے اخلاق کی نسبت زیادہ توجہ دے کر ان کی نشوونما کی ضرورت پڑ گئی اور اس طرح ملک ملک میں فرق آ جائے گا پھر زمانہ ہے، وہ تو واضح ہے کہ جو آج کے مسائل ہیں وہ سو سال پہلے کے مسائل نہیں اور جو آج کے مسائل ہیں وہ ہزار سال بعد کے مسائل نہیں ہوں گے۔پس وَلَا رَهَقًا میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خواہ تم کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہو یا کسی بھی زمانہ میں پیدا ہوئے ہو قرآن کریم کی شریعت پر عمل کر کے کم علمی کے نتیجہ میں تمہیں نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ قرآن کریم تو تمہارے سامنے علم کا ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔تم مطہر بنو قرآن کریم کے علمی خزانوں کی چابیاں تمہارے ہاتھ میں دے دی جائیں گی پھر تم اس سے فائدہ اُٹھانا۔تمہیں جہالت کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔۔۔۔۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَلَا دَهَقًا اپنے رب پر ایمان لانے والا اور ایمانی تقاضوں کو پورا کر کے اپنی زندگی کو اسوہ محمدی میں ڈھالنے والا اور شریعت محمدیہ پر عمل کرنے والا انسان وَلَا دَهَقًا کا مصداق ہے۔اُسے کسی جہالت یا سفاہت یا حماقت کا کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ روشنی کا ایک میناراس کے پاس لا کر کھڑا کر دیا گیا ہے۔نور کے ایک سرچشمے سے اس کا تعلق قائم کر دیا گیا ہے۔جس شخص کا تعلق حقیقی طور پر اور سچے معنوں میں نور کے سرچشمے سے قائم کر دیا جاتا ہے، اس کو اندھیرے سے کیا خوف ہوسکتا ہے۔رهَقًا کے چوتھے معنے یہ ہیں کہ اسلامی شریعت اتنی حسین ہے کہ تم کسی حالت میں بھی کیوں نہ ہو، وہ تمہارے لئے تکلیف مالا يطاق پیدا نہیں کرتی کیونکہ رھی کے چوتھے معنے منجد میں یہ لکھے ہیں حمل الْمَرْءِ عَلى مَالَا يُطِيقُه یعنی کسی شخص پر ایسا بوجھ ڈالنا کہ جسے وہ برداشت نہ کر سکے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے، بار بار دہرانے کی ضرورت نہیں آپ سمجھتے ہیں کہ اس میں ہر انسان مخاطب ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے انسان کو بھی مخاطب کیا ہے۔ہمیں بھی مخاطب کیا ہے