انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 526
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث الْمُنْكَرِ (ال عمران : ۱۰۵) ۵۲۶ سورة الجن رهَق کے دوسرے معنے خِفّةُ الْعَقْلِ کے ہیں جس کا مطلب یہ ہے ان کو کم عقلی کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔یعنی قرآن کریم نے یہ اعلان کیا ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ گے تو علاوہ اور بہت سے روحانی فوائد کے تمہیں ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ تمہاری عقلوں کو جلا ملے گی نیر الهام کے بغیر عقل کو جلا نہیں مل سکتی اور پھر الہام اور وحی بھی وہ جو کامل شکل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کامل وجود پر نازل ہوئی اور جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔غرض فَلَا يَخَافُ رَهَقًا میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان کو کم عقلی کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔اگر وہ قرآن کریم پر غور کرے گا، فکر کرے گا اور تدبر کرے گا (جس کی طرف قرآن کریم میں بار بار توجہ دلائی گئی ہے ) تو اس کی عقل اس نہج پر نشو نما پائے گی کہ دنیوی میدان میں بھی ، دُنیا کے مسائل میں بھی اگر انسان فکر اور تدبر کرے گا تو صحیح نتیجہ پر پہنچ جائے گا۔ویسے یہ عقل جو ہے اس کا تو یہ حال ہے کہ بڑے بڑے عقلمند کہلانے والے سوچتے اور غور تو کرتے ہیں مگر بسا اوقات غلط نتائج پر پہنچ جاتے ہیں بڑے بڑے چوٹی کے ماہرین آج ایک بات کہتے ہیں اور دس سال کے بعد ان سے بھی بڑا عقل کا ایک اور دعویدار کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ بالکل بیوقوفی کی بات کر گئے ہیں اور یہ بات ہر سائنس میں ہمارے مشاہدہ میں آتی ہے لیکن قرآن کریم کے اصول پر جس عقل کو جس دماغ کو سوچنے اور قرآن کریم کی بتائی ہوئی نہج پر غور کرنے کی عادت پڑ جائے اس کے لئے دُنیا میں بھی ٹھوکر کھانے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے ویسے انسان انسان ہے وہ ٹھو کر تو کھائے گا لیکن دوسروں کی نسبت خطرہ کم ہو جائے گا۔بہر حال قرآن کریم کی شریعت عقل کو جلا دینے والی ہے۔اگر کسی نے ٹھوکر کھائی ہے تو اس کا ذمہ وار وہ خود ہے قرآن کریم ذمہ وار نہیں ہے۔اس نے خود کہیں نہ کہیں قرآن کریم کے طریق کو چھوڑا اور اس کے نتیجہ میں ٹھوکر کھائی ہے۔رهَق کے تیسرے معنے جہالت اور کم علمی کے ہیں۔لا يَخَافُ رَهَقًا میں قرآن کریم کے متعلق یہ اعلان ہو گیا کہ یہ علم کا نہ ختم ہونے والا سمندر ہے اور جب یہ انسان کے ہاتھ میں آ جاتا ہے تو پھر اس کو