انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 525
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۲۵ سورة الجن کے نتیجہ میں وہ عمل ناقص تھا تب بھی ناقص جزا نہیں ہے۔اس کے مقابلے میں بھی اتنی بڑی جزا ہے کہ وہ ہمارے ذہن میں سمانہیں سکتی۔پھر فرما یا ولا رَهَقًا اس کو رھی کا بھی خوف نہیں ہوگا۔( میں نے آج منجد دیکھی تھی۔اس میں ) رهَق کے چار معنے بتائے گئے ہیں اور وہ چاروں معنے تفسیری لحاظ سے یہاں لگتے ہیں۔رهَق کے ایک معنے الافم یعنی گناہ کے ہیں۔اگر شریعت کامل نہ ہو۔وہ بعض حصوں کو لے اور بعض حصوں کو نہ لے جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض حصوں کے متعلق ہدایت دے اور بعض حصوں کو b انسان پر چھوڑ دے تب بھی گناہ کا خطرہ رہتا ہے کہ جو اس نے فیصلہ کیا ہے وہ درست نہیں ہے۔مگر یہاں فرمایا کہ شریعت محمدیہ پر ایمان لانے والے کو (اگر وہ اس پر کار بند ہوتا ہے ) اثم کا کوئی خطرہ نہیں رہتا اس لئے کہ یہ شریعت کامل اور مکمل ہے۔اس لئے کہ یہ شریعت خیر محض ہے۔قرآن کریم کے ایک لفظ خیرا میں شریعت محمدیہ کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے مَا ذَا انْزَلَ رَبَّكُمْ ، قَالُوا خَيْرًا (النحل : ۳۱) شریعت محمد یہ بھلائی ہی بھلائی ہے اس واسطے اثم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر انسان کی فطرت بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور انسانی فطرت کو نیک اور بد میں تمیز کرنے کی توفیق بھی اُسی نے عطا فرمائی ہے۔انسانی فطرت ( اور اس سے میری مراد وہ فطرت ہے جو مسخ نہ ہو چکی ہو ) کسی چیز کو بد قرار نہیں دے گی جسے شریعت محمدیہ نے بد قرار نہ دیا ہو اور انسانی فطرت کسی چیز کو نیکی اور بھلائی اور ثواب کا موجب قرار نہیں دے گی کہ جس کا حکم شریعت محمدیہ میں نہ ہو کیونکہ خود قرآن کریم فرماتا ہے فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ( الزوم : ۳۱) خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت کو پیدا کیا ہے یہ اس کا عمل ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ایک کامل شریعت کے رنگ میں اپنی وحی کے ذریعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے اور یہ اس کا قول ہے اور اللہ تعالیٰ کے فعل اور اس کے قول میں تضاد نہیں ہوا کرتا۔پس فطرت جن چیزوں کو نیکی کی باتیں قرار دیتی ہے، انہیں باتوں کا قرآن کریم حکم دیتا ہے۔اس واسطے اثم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ کہیں فطرت کا وحی کے ساتھ تصادم نہ ہو جائے۔اس قسم کا کوئی خوف نہیں ہوتا کیونکہ جس خدا نے فطرت کو پیدا کیا ہے اُسی نے وحی کو نازل فرمایا ہے اسی واسطے مومنوں کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ