انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 518 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 518

۵۱۸ سورة نوح تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث کے لئے بھی گو ایک تسلسل کا ہونا ضروری ہے لیکن قرآن کریم کی اصطلاح میں اسے استقامت نہیں کہتے بلکہ اصرار کہتے ہیں جیسے مثلاً سورۃ نوح میں فرمایا: وَاصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتَكْبَارًا یعنی ایسے لوگوں نے اپنے گناہوں اور کفر اور انکار اور نبی کو قبول نہ کرنے پر اور اس کی مخالفت کرنے پر بوجہ تکبر اصرار کیا یعنی وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے اور گناہ پر تسلسل تھا۔وہ کہتے تھے کہ ہم نے گناہ نہیں چھوڑنا چنانچہ اس کے نتیجہ میں وہ عذاب یا جہنم کے مستوجب ٹھہرے۔قرآن کریم نے عذاب کا لفظ دونوں معنوں میں استعمال کیا ہے۔اُس تنبیہ کے معنی میں بھی جو لوگوں کی اصلاح لئے عذاب کی شکل میں نازل ہوتا ہے اور اُس قہر کے معنوں میں بھی جو مرنے کے لئے جہنم کی شکل میں ملتا ہے۔اس کو بھی عذاب جہنم کہتے ہیں۔قرآن کریم نے بھی عذاب کو اس معنی میں استعمال کیا ہے۔پس جہاں گناہوں پر اصرار ہو اللہ اپنا غضب بار بار نازل کرتا ہے۔اس کے لئے جیسا کہ میں نے بتایا ہے اصرار کا لفظ استعمال ہوا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ نوح میں فرماتا ہے وَ أَصَرُّوا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا اس کے برعکس اصرار کا لفظ نیکیوں کے تسلسل کے لئے قرآن کریم میں کہیں بھی استعمال نہیں ہوا۔خطبات ناصر جلد دہم صفحه ۵۴،۵۳)