انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 514
تفسیر حضرت علیله اسح الثالث انسان کو ایک خاص دائرہ میں آزادی دی گئی ہے۔۵۱۴ سورة المعارج اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے انسانی فطرت میں یہ جو چیز رکھی ہے کہ وہ چاہے تو نیکی کی راہ کو اختیار کرے اور چاہے تو نیکی کی راہ کو اختیار نہ کرے اور اسے جو آزادی دی ہے اس کی وجہ سے وہ هَلُوعٌ ہے۔هَلُوع کے معنی عربی زبان میں یہ بھی ہیں کہ جن نیکیوں پر صبر کی ضرورت تھی اس نے ان پر صبر نہیں کیا اور یہ بھی ہیں کہ جن عطایا کے صحیح استعمال سے اس نے اپنے خدا سے خیر حاصل کرنی تھی خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ان صلاحیتوں اور اس کے عطا کردہ انعامات کو ایسے طریق پر خرچ نہیں کیا کہ وہ خدا تعالیٰ کا انعام حاصل کر سکے۔پس عربی زبان میں هَلُوع کے معنی صبر نہ کرنے والے کے بھی ہیں اور هَلُوع کے معنی یہ بھی ہیں کہ خدا کی طرف سے جو مال ملے اس کو جن بہت سی جگہوں پر دوسروں پر خرچ کرنے کا حکم ہے وہاں خرچ نہ کرنے والا اور حریص۔اس کے لئے عربی کا ایک لفظ شح ہے یعنی ایک خاص معنی میں بخل کی بیماری میں مبتلا ہونا۔عربی زبان کا یہ لفظ هَلُوع مبالغے کے صیغے کے ساتھ فاعل ہے اور اس کے اندر یہ دونوں معنی پائے جاتے ہیں اور ان دونوں معنوں کو دو اگلی آیات نے کھول کر بیان کیا ہے۔چنا نچہ فرمایا اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزْوعًا جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ان حالات میں اس پر صبر کرنالازم ہوتا ہے۔خدا کے بندے، خدا سے پیار کرنے والے تو خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر چیز قربان کر کے بھی صبر اور استقامت اور پختگی کے ساتھ اپنی وفا پر قائم رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے دامن کو چھوڑتے نہیں لیکن بعض انسان ایسے ہیں جو فطرت کا غلط استعمال کرتے ہیں اور جہاں صبر کرنا چاہیے وہاں بے صبری سے کام لیتے ہیں اور جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان کے اوقات میں خواہ وہ کسی قسم کا ہو بشاشت قائم رکھتے ہوئے صبر سے کام لینا چاہیے وہاں صبر کا نمونہ نہیں دکھاتے یا اپنے بھائیوں کے لئے مال خرچ کر کے ان کی خاطر تکلیف اٹھا کر انہیں سکھ پہنچانے کے لئے جو نیکیاں کرنی چاہئیں اس تکلیف کو وہ بھائی کی خاطر قبول نہیں کرتے اور اس پر صبر نہیں کرتے هَلُوع میں یہ معنی بھی آجاتے ہیں یعنی فطرت کے اندر نیکی کی جو صلاحیتیں ہیں ان سے وہ کام نہیں لیتے بلکہ ان کی طبیعتیں برائی کی طرف مائل ہوتی ہیں۔إذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا جب ان کو تکلیف پہنچتی ہے تو بے صبری سے کام لیتے ہیں اور بے صبرے