انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 513
تفسیر حضرت غاليلة السبع الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۵۱۳ سورة المعارج بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة المعارج آیت ۲۰ تا ۲۴ إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَدُوعًان إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزْوعًات وَ إِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا إِلَّا الْمُنَ الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دايمون اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں بے شمار صلاحیتیں ودیعت کی ہیں اور ہر وہ طاقت انسان کو دی گئی ہے جس سے وہ ہر دو جہان کی ہر چیز سے خدمت لے سکے لیکن خدا تعالیٰ نے انسان کو یہ طاقت بھی دی ہے کہ جہاں وہ اپنی طاقتوں کا صحیح استعمال کر سکتا ہے وہاں غلط استعمال بھی کر سکے اور باوجود اس کے کہ اگر وہ چاہے تو غلط راہوں کو اختیار کر سکتا ہے وہ اپنے رب کی رضا کی خاطر غلط راہوں کو اختیار نہ کرے بلکہ صحیح راستوں پر چلے۔صحیح راستے پر چلنا یہ ہے کہ جس غرض کے لئے کوئی طاقت دی گئی ہے اسی غرض کے لئے اسے خرچ کیا جائے۔انسانی فطرت کی ہر صلاحیت خدا تعالیٰ نے انسان کی بھلائی کے لئے اسے دی ہے لیکن چونکہ اس نے خدا تعالیٰ سے بے انتہا نعمتوں کو حاصل کرنا تھا اور اپنے رب کریم کے انعامات پانے تھے اس لئے اسے ایک دائرہ کے اندر یہ اختیار دیا کہ وہ اپنی مرضی سے خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں کو اختیار کرے اس پر کوئی جبر نہیں ہے کیونکہ ہماری عقل ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جو کام جبر کے نتیجہ میں کیا جائے اس پر کوئی انعام نہیں ملا کرتا۔زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سزا سے بچ جاتا ہے مثلاً انسان کے علاوہ دنیا کی ہر چیز اور خود انسان کے جسم کے مختلف حصے بھی ہزاروں کام جبراً کر رہے ہیں۔خدا تعالیٰ جو حکم نازل کرتا ہے اس کے مطابق وہ کام کر رہے ہیں مگر