انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 512 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 512

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۵۱۲ سورة الحاقة باقية کیا ان کا کوئی نشان بھی تمہارے سامنے آتا ہے؟ وہ کلیتا صفحہ ہستی سے مٹادئے گئے۔اس لئے کہ انہوں نے یہ خیال نہیں کیا کہ وہ رب جو ان کا پیدا کرنے والا تھا، جو اس قدر ان پر رحم کرنے والا تھا، جو اس قدر ان پر انعام کرنے والا تھا اس کے نتیجہ میں ان پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی تھیں لیکن انہوں نے کفر اور ناشکری کو اختیار کیا اور خدا تعالیٰ کی بجائے شیطان کو اپنا دوست بنالیا تب ساری کی ساری قوم کو اللہ تعالیٰ نے صفحہ ہستی سے مٹادیا اور ان کا کوئی نام ونشان بھی باقی نہ رہا۔اس قسم کے واقعات کا ذکر کثرت سے قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اور ایک مقصد ان کا یہ ہے کہ تا ان واقعات کو سن کر ہمارے دل خوف سے لرز اٹھیں اور ہم یہ عہد کریں کہ قرآن کریم نے جو تعلیم ہمارے سامنے رکھی ہے جس سے خدا راضی ہوتا ہے اور جس کو چھوڑ کر خدا کی ناراضگی مول لینی پڑتی ہے، ہم کبھی بھی اس تعلیم کو چھوڑیں گے نہیں بلکہ اس تعلیم کو اپنا ئیں گے۔اس تعلیم کو اس طرح اپنے جسموں اور روحوں میں جذب کر لیں گے جس طرح خون ہمارے اندر بہہ رہا ہے۔تا کہ خدا کا غضب کسی شکل میں بھی اور اس کی لعنت کسی صورت میں بھی ہمارے اوپر نازل نہ ہو۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۳۳۶، ۳۳۷)