انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 510
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۱۰ سورة القلم اپنے دائرہ استعداد کے اندر کمال تک پہنچانے کے قابل ہو سکے یہ صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہوا۔آپ دنیا میں آئے اور اپنا کامل نمونہ دنیا میں پیش کیا اور ایک کامل تعلیم انسان کے ہاتھ میں دی جس کے نتیجہ میں انسانی فضائل اپنے کمال کو پہنچ سکنے کے قابل ہوئے۔انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے جس قدر بھی تقاضے رکھے ہیں یا انسانی وجود کی جس قدر بھی شاخیں ہیں ان تمام کے لئے یہ سامان پیدا ہوگیا کہ وہ اپنے کمال کو پہنچ سکے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ معلم اعظم بھی حضرت بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ عَلَيْكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَ كَانَ فَضْلُ اللَّهِ۔b عَلَيْكَ عَظِيمًا (النساء : ۱۴) وہ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں عطا ہوا ہے جو تم بحیثیت ایک بشر کے اپنے زور سے خود بخود حاصل نہیں کر سکتے تھے اور فضل الہی سے فیضان الہی سب سے زیادہ آپ پر ہوا جس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت جس کو ہم معارف الہیہ بھی کہتے ہیں اور اسرار اور علوم ربانی جو ہیں ان کے جاننے میں آپ اعلم تھے یعنی آپ سے زیادہ ان کا عرفان رکھنے والا کوئی بھی نہیں ہوا اور جو زیادہ جانتا ہے جو سب سے زیادہ علم رکھتا ہے وہی سب سے زیادہ سکھا بھی سکتا ہے اگر آپ علم کی سوا کائیاں فرض کریں تو جس شخص کو پچاس اکائی کا علم ہے وہ ساٹھ اکائی نہیں سکھا سکتا۔و کی سوا کائی وہی سکھا سکتا ہے جو خود سوا کائی کا علم رکھتا ہو۔پس عَلَيْكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ ط فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (النساء : ۱۱۴) میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کو یہ بتایا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر علم کے میدان میں ( علم روحانی لیکن علم جسمانی کے اصول بھی اسی علم روحانی کے نیچے آتے ہیں ) جتنا فضل حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوا اتنا کسی اور پر نہیں ہوا۔جس قدر انسان کو علم روحانی کی ضرورت تھی وہ سب آپ کو سکھایا گیا اور آپ کے طفیل نوع انسانی اس قابل ہوئی کہ اگر وہ کوشش اور ہمت سے کام لے تو اپنے اپنے ظرف کے مطابق اپنی علمی استعدادوں کو کمال تک پہنچاسکتی ہے۔(خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۶۴ تا ۶۶)