انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 504
تفسیر حضرت خلیفہ اسیح الثالث ۵۰۴ سورة الملك کہ ہم نے اپنے رحمان خدا پر ہی تو کل کیا ہے۔ہمارا یہ دعویٰ کہ کامیاب اسلام نے ہی ہونا ہے کامیاب مسلمانوں نے ہی ہونا ہے ہماری کسی خوبی کے نتیجہ میں نہیں فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلِلٍ مُّبِيْنٍ یہ سب کچھ رحمان خدا کی رحمت کے نتیجہ میں ہوگا اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ اسلام غالب آئے اس لئے بہر حال یہ فیصلہ جاری ہوگا۔اگر کسی نے بھروسہ کرنا ہے اور اس کے بغیر یہ زندگی گزر نہیں سکتی تو تمام عارضی اور ناقص اور بے وفا - سہاروں کی بجائے اللہ تعالیٰ پر اسے بھروسہ کرنا چاہیے جو رحمان ہے وہ اسے اتنی نعمتیں دے گا کہ ان کے مقابلہ میں اس نے کچھ بھی کیا نہیں ہوگا۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۳۸۴) اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہم اس صداقت پر پہنچتے ہیں (جسے قرآن کریم نے وضاحت سے بیان کیا ہے ) کہ اللہ تعالیٰ نے اس یو نیورس ، اس عالمین کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ انسان اس سے خدمت لے اور اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام طاقتیں بھی بخشی ہیں جن کی بدولت وہ اس کی مخلوق سے ہر قسم کی خدمت لینے کا اہل ہے۔قرآن کریم نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ ہر چیز کی فطرت میں یہ بات رکھ دی گئی ہے کہ وہ انسان سے اثر قبول کرے اور اس کی خدمت بجالائے۔چنانچہ تم جانوروں مثلاً کتے کو سکھاتے ہو اور اس سے اپنی خدمت لیتے ہو۔پس انسان کو دوسروں کے سکھانے اور معلم بنے کی ایک ایسی طاقت دی گئی ہے کہ وہ نہ صرف دوسرے انسان کو علم دیتا ہے اور سکھاتا ہے بلکہ کتوں کو بھی سکھا سکتا ہے۔کتا اس کے کہنے کے مطابق کام کرتا ہے مثلاً ایک سدھایا ہوا کتا جسے انگریزی میں گن ڈاگ“ کہتے ہیں۔وہ شکاری کے ساتھ جاتا ہے تو شکار پر دانت نہیں مارتا بلکہ اسے اپنے نرم ہونٹوں سے پکڑ کر اپنے مالک کے پاس لے آتا ہے۔ظاہر ہے انسان اُسے یہ علم سکھاتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میں یہ رکھا ہے کہ وہ انسان سے اثر قبول کرے، اس سے علم سیکھے اور اس کے کہنے کے مطابق کام کرے۔اسی طرح انسان بے جان مادی اشیاء سے بھی خدمت لیتا ہے۔مثلاً انسان نے ہیرے سے اپنی خدمت لی۔عورت نے اسے اپنی زینت بنا لیا۔مرد نے اسے پٹرول کے کنوئیں کھودنے کے لئے استعمال کیا۔بور کر نیوالی مشینوں کے آگے ہیرے لگے ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے ان کےسرے ڈائمنڈ ہیڈز“ کہلاتے ہیں۔ورنہ یہ لو ہاتو پتھر نہیں کاٹ سکتا۔