انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 503 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 503

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۵۰۳ سورة الملك کرد یا اور اسی کے حکم سے ساری کائنات نشو و نما پارہی ہے، اُس کے لئے تو کوئی مجبوری نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ ہی تمام برکتوں اور نعمتوں کا سرچشمہ ہے اگر برکتیں اور نعمتیں لینی ہوں تو اسی کی طرف رجوع کرو کہ وہ حقیقی طور پر بادشاہ ہے وہ جو چاہتا ہے سوکرتا ہے کوئی طاقت اس کی راہ میں روک نہیں بن سکتی۔خدا تعالیٰ سے جو برکتیں اور نعمتیں حاصل کرنے کی کوشش کرو اس میں صرف اس دُنیا کو مدنظر نہ رکھو بلکہ اس کی برکتوں کے ایک حصہ کا تعلق موت سے ہے اور ایک کا تعلق زندگی سے ہے۔پس ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ زندگی اور موت کو پیدا کرنے والے رب کی ہر قسم کی برکتیں حاصل کریں جن کا اس زندگی سے تعلق ہو یا جن کا موت سے تعلق ہو۔انسان کے لئے ہر موت ایک نئی زندگی کا دروازہ کھولتی ہے لیکن خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوة کے محاورہ میں ہم نہیں گئے کہ زندگی سے تعلق رکھنے والی اور ایک زندگی کو چھوڑ کر دوسری زندگی میں جانے سے تعلق رکھنے والی جو برکتیں اور نعمتیں ہیں وہ خدا تعالیٰ سے حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اس کے لئے بنیادی طور پر جو راہیں اور اصول بتائے گئے ہیں وہ یہی ہیں کہ تمام برکتیں اسی عظیم ہستی سے حاصل کی جاسکتی ہیں جس کی خلق کے اندر اور جس کی حسنات کے جلوؤں کے اندر تمہیں کوئی تضاد نظر نہیں آتا اور ساتھ طریقہ بھی بتادیا کہ تمہارے اندر تضاد نہیں ہونا چاہیے۔(خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۸۱ تا ۹۰) آیت ۳۰ قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ أَمَنَّا بِهِ وَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۚ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ في ضَل مبين قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ أَمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ایسی ہے کہ وہ احسان کرتے ہوئے یہ نہیں دیکھتا کہ جس پر وہ احسان کر رہا ہے اس نے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا ہے یا نہیں ( گواس پر تو احسان کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ کامل صفات والی ذات ہے اس کو کسی چیز کی کمی نہیں ) اس کے اندر استحقاق پایا جاتا ہے یا نہیں پایا جاتا اگر انسان کے اندر کوئی خامی اور کمزوری ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی اور ادا پسند آ جائے تو وہ کمزوری اور خامی دور ہو جاتی ہے ایسا شخص مغفرت کی چادر میں لپیٹ لیا جاتا ہے اور بغیر کسی استحقاق کے اللہ تعالیٰ اس کو اتنی نعمتیں عطا کرتا ہے کہ وہ عاجز بندہ اس کی طرف جھکتا ہی چلا جاتا ہے اور اس کے راستہ میں فنا ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَلَيْهِ تَوَكَّلْنا تم یہ کہہ دو