انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 502
تفسیر حضرت خلیفہ اسی اثاث ۵۰۲ سورة الملك انسان تو بڑا عاجز ہے۔پس ظاہر ہے کہ تمام برکتیں اور نعمتیں اسی ہستی سے حاصل کی جاسکتی ہیں جس کی صفات میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا اور یہ خدا تعالیٰ ہی کی ہستی ہے جس کے متعلق ہمیں یہ حکم ہے کہ اس کی صفات کا مظہر بنو تو پھر ہماری زندگی میں بھی کوئی تضاد نہیں پایا جانا چاہیے کوئی فتور اور کوئی خلل اور کوئی فساد نہیں پایا جانا چاہیے۔اب مثلاً ایک آدمی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بڑا اچھا ذہن دیا ہے۔ذہنی لحاظ سے اُسے بہت اچھی استعداد میں دی گئی ہیں لیکن بعض گپیں ہانکنے والے اس کے دوست بن گئے تو یہ گو یا اس کی زندگی میں تضاد پیدا ہو گیا۔اس کی علمی میدان میں آگے بڑھنے کی طاقت کچھ اور تقاضا کرتی ہے اور گپیں مارنے کی عادت کچھ اور تقاضا کرتی ہے چنانچہ جب اس کی ایک حصہ زندگی میں تضاد پیدا ہو گیا تو وہ نا کام ہو گیا۔ہمارے ملک میں بھی اور بعض دوسرے ملکوں میں بھی بڑے اچھے ذہین بچے پیدا ہوتے ہیں مگر وہ اس لئے ضائع ہو جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی ناشکری کرتے ہیں جو اُنہیں ذہنی استعدادوں کی شکل میں میسر آتی ہے۔البتہ یہ صحیح ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی طاقتوں کے مطابق تو اپنی زندگی میں اپنی طاقتوں کے جلوے نہیں دکھا سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے متعلق قرآن کریم میں یہ بھی آتا ہے لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ (البقرة :۔۔۔۔۔۔۔۔غرض اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اے لوگو! اگر تم میری رحمتوں اور برکتوں اور نعمتوں سے کامل حصہ لینا چاہتے ہو تو تمہاری زندگی میں کسی قسم کا تضاد نہیں پایا جانا چاہیے۔فرمایا ت بُرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الملك تمام برکتوں اور نعمتوں کا سر چشمہ اور منبع وہ ذات ہے جو بادشاہ ہے اور حقیقی طور پر بادشاہ ہے کیونکہ فرماتا ہے وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير حقیقی بادشاہت کا یہ بیان ہے کہ حقیقی بادشاہ کے لئے ہر چیز پر قادر ہونا ضروری ہے۔ظاہر ہے جو حقیقی بادشاہ ہو گا وہ ہر چیز پر قادر ہوگا اور مصلحتیں اور حالات اور مجبوریاں اس کے راستے میں حائل نہ ہوں گی اور نہ ہو سکتی ہیں بلکہ اُن کے حائل ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا مثلاً بادشاہ کی ایک یہ مجبوری ہے کہ چھوٹا ملک ہے جیسے گیمبیا ہے جس کی آبادی تین لاکھ افراد پر مشتمل ہے اس پر اگر کوئی ایسا ملک حملہ آور ہو جائے جس کی آبادی ایک کروڑ کی ہے تو اس صورت میں چھوٹا ملک کچھ نہیں کر سکتا۔اچھی بادشاہت ہوتے ہوئے بھی وہ مقابلہ نہیں کر سکتا اور یہ اس کی مجبوری ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے سامنے تو کوئی مجبوری نہیں۔وہ عظیم ہستی جس نے سکن کہہ کر ساری کائنات کو پیدا