انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 501
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۵۰۱ سورة الملك فطور نہیں پایا جاتا۔جس غرض کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے اگر اس کی زندگی اس کے مطابق ہو اور اس کی زندگی میں اندرونی طور پر بھی تضاد نہ ہو اور اس کی زندگی میں صفات باری کے انعکاس کے بارہ میں بھی کوئی تضاد نہ پایا جائے تو پھر کامیابی ہے دنیا کی بھی اور اُخروی زندگی کی بھی۔دین کی بھی اور دُنیا کی بھی ، جسم کی بھی اور روح کی بھی۔ہر لحاظ سے اُسے پوری کامیابی ملتی ہے اور اچھے نتائج نکلتے ہیں لیکن جب تضاد پایا جائے۔تضاد مثلاً اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ شرک نہیں کرنا لیکن بعض لوگ کچھ خدا کے لئے زندہ رہتے ہیں اور کچھ بتوں کے لئے زندگی گزارتے ہیں اور یہ کھلم کھلا تضاد ہے۔بعض لوگ خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لانے کا دعوی بھی کرتے ہیں اور قبروں پر جا کر سجدے بھی کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کو قادر وتوانا بھی سمجھتے ہیں اور اپنی عقل اور علم کے زور سے کچھ حاصل کرنے کا تصور بھی اپنے دماغ میں رکھتے ہیں۔ان کا نفس ایک بہت بڑا بت بن جاتا ہے اور ان کے دماغ میں ہزاروں بت نظر آتے ہیں۔اگر ہم خدا تعالیٰ کی دی ہوئی فراست اور اس کے عطا کردہ نور سے دیکھیں تو ہمیں ایسے لوگوں کے اندر ہزار ہا بت نظر آتے ہیں اور یہ تضاد ہے۔اس کے مقابلہ میں زندگی کے ہر پہلو سے خدا تعالیٰ کا ہو جانا اور اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ کی صفات منعکس کرنے کی کوشش کرنا یعنی اپنے اپنے دائرہ استعداد کے اندر مظہرِ صفات باری بننے کی انتہائی کوشش کرنا اور ہر قسم کے تضاد سے اپنے آپ کو پاک رکھنے کی کوشش کرتے رہنا یہ کامیابی کی راہ ہے اور یہ احسن عمل ہے مگر جہاں تضاد پایا گیا وہاں محسن نظر نہیں آئے گا۔زندگی کے ہر پہلو سے جو عمل ہے، وہ ٹھیک طور پر بجالا نا نظر نہیں آئے گا۔۔۔۔۔پس ساری دُنیا انسان کی خدمت پر لگا دی گئی اور انسان کو یہ کہا کہ تیری ذات میں جو قو تیں اور استعدادیں ہیں ، اُن میں اور اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کوئی تضاد نہیں پیدا ہونا چاہیے کیونکہ تو نے خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننا ہے چنانچہ ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور ان کے بے شمار جلووں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔اُن کے اندر کوئی خلل نہیں ، اُن کے اندر کوئی فساد نہیں ، ان کے اندر آپس میں کوئی مقابلہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ایک ایسی ہستی ہے جو حسن کا مجموعہ ہے ہمارے پاس تو وہ الفاظ نہیں ہیں جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کے حسن کو بیان کیا جا سکے۔بہر حال جہاں تک ہو سکتا ہے ہم بات کرتے ہیں اور جہاں تک ہوسکتا ہے ہم سمجھتے ہیں اور اُنہیں الفاظ کا جامہ پہنا کر بات کرتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ خدا تعالی کی گنہ کو سمجھنا انسان کا کام نہیں،