انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 499 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 499

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۴۹۹ سورة الملك نہیں دی بعض کو کم قسموں کی اور بعض کو زیادہ مگر انسان کو ساتوں قسم کی زندگی دی۔اس زندگی اور موت کے متعلق میں نے پچھلے خطبہ میں مختصر بتا دیا تھا۔انسان کو یہ زندگی اس لئے دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے آزمائے۔ویسے ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ کے علم سے تو کوئی چیز پوشیدہ تھی اور آزمائش کے نتیجہ میں ظاہر ہوئی وہ تو علام الغیوب خدا ہے، اس کے علم سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں لیکن جہاں تک انسان کا تعلق ہے اور اس کی زندگی کا سوال خود انسان کے علم سے پوشیدہ تھی اور انسان کے ماحول سے پوشیدہ تھی۔بہت سے لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بڑے ہیں اور اس طرح وہ متکبر بن جاتے ہیں۔اُن کے اندر کبر پیدا ہو جاتا ہے۔کوئی کہتا ہے میں علم میں بڑا ہوں کوئی کہتا ہے کہ میں روحانیت اور تزکیہ نفس اور طہارت میں بڑا ہوں کوئی کہتا ہے کہ میرے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ کوئی پہلوان میرا مقابلہ نہیں کر سکتا یہ اور اسی قسم کے دوسرے تکبر انسان کے لئے موت کا باعث بن جاتے ہیں۔جس چیز کو انسان زندگی سمجھتا ہے، وہ اس کے لئے موت بن جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی درگاہ سے وہ دھتکار دیا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی برکتوں اور نعمتوں کے حصول کی بجائے وہ اللہ تعالیٰ کی لعنتوں کا وارث بن جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ موت و حیات کا سلسلہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تمہیں بھی پتہ لگے اور دوسروں کو بھی پتہ لگے کہ تمہارا مقام کیا ہے تمہاری حیثیت کیا ہے تم زندگی کے حامل ہو یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت کی شکل میں تم پر موت وارد ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ عزیز بھی ہے وہ بڑی طاقت والا ہے۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ تم اس سے زبردستی یہ منوالو کہ تم پاکیزہ ہو حالانکہ قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ فَلَا تُرَكُوا انفسکم اپنے آپ کو تزکیہ یافتہ یا پاک نہ ٹھہرایا کرو کیونکہ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم : ۳۳) تقوی کا علم اور اس کا فیصلہ اور اس کا اظہار اور اس کے مطابق اپنی قدرت کی تاروں کو ہلا نا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے یہ انسان کا کام نہیں ہے۔پس وہ عزیز ہے اور بڑی طاقت والا ہے کوئی شخص اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتا لیکن مایوسی بھی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ غفور بھی ہے وہ مغفرت کرنے والا ہے۔یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ہر لحظہ اور ہر آن استغفار کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طلبگار رہے اور تیسرے یہ بتایا کہ تمام برکتیں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی سے حاصل کی جاسکتی ہیں اور اس کے لئے اس نے یہ بتایا تھا کہ یہ ظاہر کرے کہ احسن عمل والا کون ہے اور انسان کے حسنِ عمل کے لئے اللہ تعالیٰ نے