انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 490
تفسیر حضرت علیلة امبیع الثانی ۴۹۰ سورة التحريم خدا تعالیٰ کے غضب کی جہنم میں رہنے والی زندگی نہیں ہوگی۔تیسرے اس بشارت والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہر بدی رسوائی ہے، بے عزتی ہے اور سب سے بڑی رسوائی وہ ہے جو حقارت کی نگاہ انسان دیکھے اپنے لئے اپنے رب کی آنکھ میں۔یہاں فرمایا اللہ اپنے نبی کو رسوا نہیں کرے گا، نہ ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے۔یعنی ہمارے لئے یہ بشارت دی گئی یہاں کہ جس عزت کے مقام پر النبی کو رکھا جائے گا اس کی معیت میں، اس کے ساتھ ہی تو بہ کرنے والے مومنوں کو رکھا جائے گا۔اور چوتھی یہاں یہ بات بتائی کہ ان کا نور ان کے آگے آگے بھی بھاگتا جائے گا اور دائیں پہلو کے ساتھ بھی۔یہاں یہ بتایا کہ جو عقیدہ اور عملا تو بہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلتے اور ایسے اعمال بجالاتے ہیں جن میں کوئی ملاوٹ اور کھوٹ نہیں ہوتا ، جن میں کوئی ریا اور تکبر نہیں ہوتا، جن میں کوئی دکھاوا نہیں ہوتا بلکہ سارے کے سارے اعمال اللہ تعالیٰ کے پیار کے چشمے سے ابلتے ہوئے باہر آتے ہیں اور خدا کے نزدیک مقبول ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ایک نور عطا کرتا ہے۔یہ جو نور عطا کیا جاتا ہے یہ خود ایک لمبا مضمون اسلام میں بیان ہوا ہے۔ایک پہلو اس کا یہ بھی ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی فراست سے ڈرتے رہا کرونو رفراست دیا جاتا ہے اسے۔بہر حال ایک نور مومن کو عطا ہوگا اور یہ نور جو ہے یہ حض حال کو یعنی جو آج کا وقت ہے صرف میری زندگی کے، آپ کی زندگی کے ”آج کو روشن کرنے والا نہیں ہوگا بلکہ آگے آگے بھاگتا جائے گا یعنی مستقبل کو بھی منور کرنے والا ہوگا اور اس نور کے نتیجے میں دائیں طرف بھی روشن ہوگی ( دایاں دین اسلام کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی صحیح میلان دین کی طرف پیدا کرے گا یعنی دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا حوصلہ بھی دے گا اور عزم بھی دے گا اور توفیق بھی دے گا۔مستقبل روشن ہوگا۔دین کی طرف میلان قائم رہے گا اور خاتمہ بالخیر ہوگا اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ۔اور آخر میں یہ بتایا کہ ان کی مقبول دعا اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرے گی۔انہیں یہ دعا کرنے کی توفیق ملے گی کہ (کہ کے بعد میں ایک اور فقرہ بیچ میں لانا چاہتا ہوں۔کوئی انسان جتنی مرضی رفعت حاصل کر لے وہ انتہائی رفعت تک نہیں پہنچتا۔اس لحاظ سے اس میں نقص اور کمال کی کمی رہتی ہے۔تو