انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 483
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۴۸۳ سورة الطلاق ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے جیسے فرمایا وَ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بالغ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا (الطلاق: ۴) جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اللہ ہی اس کے لئے کافی ہوتا ہے کسی غیر کی اسے حاجت نہیں ہوتی ، اور اللہ تعالیٰ کا فی اس معنی میں ہے کہ وہ اس قسم کی کامل ذات ہے کہ جو وہ چاہتا ہے کر کے چھوڑتا ہے اِنَّ اللهَ بَالِغ وہ اپنے مقصد کو پورا کر دیتا ہے اگر آسمان پر یہ فیصلہ ہو کہ اسلام کو ساری دنیا میں غالب کیا جائے گا اور یہ فیصلہ ہو چکا ہے تو فَهُوَ حسبه وہ اس کے لئے کافی ہے نہ کسی کا ڈر باقی رہتا ہے اور نہ کسی اور کا سہارا لینے کی ضرورت رہتی ہے۔إِنَّ اللهَ بَالِغ آمدہ اللہ تعالیٰ یقیناً اپنے مقصد کو پورا کر کے چھوڑتا ہے لیکن چونکہ وہ حکیم بھی ہے اس لئے قَدْ جَعَلَ اللهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا ہر چیز کا ایک اندازہ اس نے مقرر کیا ہوا ہے مثلاً ابتلا کے زمانہ کا ایک اندازہ ہے، امتحان کے زمانہ کا ایک اندازہ ہے جو دکھ خدا کی راہ میں اٹھائے جاتے ہیں ان کا بھی ایک اندازہ ہے وہ دکھ بھی ایک اندازہ کے اندر ہی رہتے ہیں وہ اتنے نہیں بڑھتے کہ انسان ان کے نیچے آ کر پس جائے اور اگر کسی کی قسمت میں شہادت کا انعام ہی لکھا ہوتو وہ اس کو مل جاتا ہے اور ایک عظیم جنت کا وہ وارث بن جاتا ہے غرض ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کیا ہے اس لئے انسان کو بے صبری اور جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے ہو گا وہی جو خدا نے چاہا ہے اور اس کا فیصلہ ہے لیکن ہر چیز کا اس نے ایک اندازہ مقرر کیا ہوا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ اندازہ مقرر کیا تھا کہ آپ کی شان اور عظمت کو دنیا میں ظاہر کرنے کے لئے آپ کی زندگی میں ہی دنیوی لحاظ سے ایک فتح عظیم آپ کو عطا کر دی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے متعلق یہ اندازہ مقرر کیا کہ تین صدیاں نہیں گذریں گی کہ اسلام دنیا میں غالب آ جائے گا ممکن ہے کہ وہ پہلی صدی کے بعد غالب آ جائے ممکن ہے دوسری صدی کے بعد وہ غالب آئے اس نے آخری حد تک مقرر کر دی ہے باقی حصہ ایمان بالغیب کے لئے چھوڑ دیا ہے اور بتایا ہے کہ اس عرصہ میں اسلام ساری دنیا میں غالب آ جائے گا اور جو لوگ اسلام سے منہ موڑیں گے ان کی کوئی دنیوی حیثیت باقی نہیں رہے گی ان کی اتنی حیثیت بھی نہیں رہے گی جو آج کے معاشرہ میں چوہڑوں اور چماروں کی ہے اسلام ہی غالب ہو گا اور اسلام ہی معزز ہو گا اور دنیا کی ہر جگہ ہر ملک، ہر شہر اور ہر قریہ خدائے واحد یگانہ