انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 482 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 482

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۸۲ سورة الطلاق سانپ مانگا اور سوٹی سے اس کی طرف سانپ پھینک دیا ماں نے۔بلکہ وہ حکیم ہے وہ اپنی حکمت کا ملہ سے تمہاری دعاؤں کو سنے گا اور اپنے پیار کا اظہار کرے گا۔تین دلیلیں ، تین حکمتیں یہاں بیان ہوئی ہیں۔سورہ شعراء میں ہے وَتَوَكَّلُ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ (الشعراء:۲۱۸) عزیز پہلے آ گیا ہے۔یہاں دونوں کو اکٹھا کیا ہے۔جو جو چاہتا ہے کرسکتا ہے، طاقتور ہے اور بار بار کرم کرنے والی اس کی صفت ہے۔بار بار کرم کرنے والا ہے۔تو رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُل شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) جس کی صفت ہوا سے چھوڑ کے ایک ایسی ہستی کی طرف جانا جو جاہل بھی ہے خدا تعالیٰ کے مقابلے میں، طاقتور بھی نہیں ہے اور جس کا رحم جو ہے وہ خدا تعالیٰ کے رحم کے مقابلہ میں اپنی کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا، یہ حماقت ہوگی۔اس واسطے توکل علی الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ اس لئے عملی زندگی میں (جو اصل چیز میں اس وقت پورے زور کے ساتھ آپ کو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ عملی زندگی میں ) سوائے خدا کے کسی کے ساتھ تعلق قائم نہ کرو اس معنی میں کہ صرف اس پر توکل کرو اور جو عقید تا اس کی صفات کا علم ہے دعا کرو کہ وہ پیاری صفات تمہاری زندگی میں جلوہ گر ہوں۔خدا کے سوا حقیقی خوشی اور خوشحالی کا سامان کوئی ہستی نہیں پیدا کر سکتی اور اللہ تعالیٰ اتنا پیار کرتا ہے، اتنا پیار کرتا ہے کہ انسانی عقل شرم سے سر جھکا دیتی ہے اور انسان جو ہے اس کو سمجھ نہیں آتا کہ میں کس منہ سے خدا تعالیٰ کی حمد ادا کروں۔ایک ایک انعام کے بدلے میں جو شکر ادا کرنا ہے مناسب، ساری عمر کرتے رہیں تب بھی نہیں وہ شکر ادا ہو گا لیکن کہا تو یہ گیا ہے کہ اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (لقمن: ۲۱) موسلا دھار بارش کے قطروں کی طرح تمہارے اوپر میری نعمتیں نازل ہو رہی ہیں۔(خطبات ناصر، جلد نهم صفحه ۲۶۳ تا ۲۶۷) جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ غیر اللہ پر اگر کسی کا بھروسہ ہو تو محض وہ بھروسہ انسان کے لئے کافی نہیں مثلاً کسی نے کالج میں داخلہ لینا ہے تو کسی اور کو وہ سہارا بنائے گا اگر نوکری لینی ہے تو کسی اور کو وہ سہارا بنائے گا کیونکہ کالج والا سہارا اسے اس سلسلہ میں کوئی مدد نہیں دے گا اگر ترقی لینی ہے تو پھر کسی اور کو سہارا بنا نا پڑے گا اگر بیماری سے شفا حاصل کرنی ہے تو اسے کسی اور کو سہارا بنانا پڑے گا مثلاًا سے طبیب کے پاس جانا پڑے گا لیکن وہ شخص جو محض اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتا ہے اور اس کو اپنا سہارا بنا تا