انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 478 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 478

۴۷۸ سورة التغابن تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث کی طرف اشارہ کرتا ہے۔دنیا کے متعلق فلاح ان باتوں پر بولا جاتا ہے کہ انسان کو صحت والی زندگی حاصل ہو مال میں فراخی ہو اور عزت و وجاہت اور اقتدار اور ثروت سب کچھ اسے میسر ہو۔آخرۃ کے متعلق فلاح کا لفظ استعمال ہو تو اس کے معنی ہوں گے کہ انسان نے ابدی زندگی پائی جس کے بعد فتا نہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے ایسی روحانی دولت دی گئی جس کے ساتھ کوئی تنگی نہیں اور خدا تعالیٰ نے اسے عزت کے ایسے مقام تک پہنچا دیا کہ اس کے ساتھ کسی ذلت کا تصور بھی ممکن نہیں اور ا سے صفات الہیہ کا ایسا عرفان حاصل ہوا کہ جس کے ساتھ کوئی جہالت نہیں ہے۔تو اس آیت میں فرمایا کہ آؤ اس فلاح کا ایک نسخہ تمہیں بتاؤں اور وہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے دل کے بخل سے بچایا جا تا ہے۔وہی دنیا اور آخرت دونوں میں مفلح (فلاح پانے والا) ہوتا ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ دل کے بخل سے نجات کس طرح ہو۔اس کے جواب کے لئے فرمایا۔فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَ أَطِيعُوا وَ أَنْفِقُوا خَيْرًا لَّا نُفُسِكُم کہ جہاں تک ہو سکے اپنی طاقت، قوت اور استعداد کے مطابق تقوی کی راہوں پر چلتے رہو اور تقوی یہ ہے کہ وَاسْمَعُوا وَاطِيعُوا (بخارى كتاب الجهاد و السير باب السمع والطاعة للامام ) که اللہ تعالیٰ کی آواز سنو اور لبیک کہتے ہوئے اس کی اطاعت کرو۔اگر تم تقوی کی راہوں پر چل کر سمعا و طاعةً کا نمونہ پیش کرو گے۔تو تمہیں اللہ تعالیٰ اس بات کی بھی توفیق دے گا کہ تم اپنی جانوں، مالوں اور عزتوں سب کو اس کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ اس طرح تمہیں دل کے بخل سے محفوظ کر لیا جائے گا۔یہی کامیابی کا راز ہے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۲۴۴ ۲۴۵)