انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 477 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 477

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطنِ الرَّحِيمِ ۴۷۷ سورة التغابن بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة التغابن آیت ١٦ اِنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللَّهُ عِنْدَةٌ أَجْرُ عظيم دنیا میں مال کا ملنا یا اولا د میں برکت کا پیدا ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے، ہمیشہ ہی (اگر پورے کا پورا امتحان نہ ہو ) ایک پہلو امتحان کا اور ایک پہلو جزا کا اپنے اندر رکھتا ہے جہاں صرف امتحان کا پہلو مدنظر ہوتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ اس کے متعلق یہ فرماتا ہے ااِنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ جو اموال اور اولاد میں نے تم کو دی ہے وہ تمہارے لئے ایک امتحان اور آزمائش ہے اگر تم اس امتحان میں کامیاب ہو گئے تو میرا انعام پاؤ گے اور اگر اس امتحان میں ناکام رہے تو میر اغضب تم پر بھڑ کے گا۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۲) آیت ۱۷ فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَ أَطِيعُوا وَ أَنْفِقُوا خَيْرًا لاَنْفُسِكُمْ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔یعنی جتنا ہو سکے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اور اپنے مال اس کی راہ میں خرچ کرتے رہو۔وہ تمہاری جانوں کے لئے بہتر ہوگا اور جولوگ اپنے دل کے بخل سے بچائے جاتے ہیں وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔عربی زبان میں فلاح کا لفظ بڑے وسیع معانی میں استعمال کیا جاتا ہے اور دین اور دنیا کی حسنات