انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 470 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 470

تفسیر حضرت علیہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی ۴۷۰ سورة الجمعة جو خدا تعالیٰ نے اس کے اندر صفتیں پیدا کی ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کا رنگ چڑھے اور اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت حاصل ہو۔خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت کے لئے یہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جو جلوے اس دنیا میں ظاہر ہوئے یا ہوتے ہیں ان کی معرفت ہمیں حاصل ہو۔خدا تعالیٰ کی صفات کے فعلی جلوے ہیں جس سے یہ کائنات وجود میں آئی ، جس کے نتیجہ میں ہر دو جہان قائم ہیں اور جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ ہر چیز کے اندر بے شمار خاصیتیں پائی جاتی ہیں اور ان خواص میں مرورِ زمانہ کے ساتھ زیادتی ہوتی چلی جارہی ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج سے دس ہزار سال پہلے جو گندم زمین پیدا کرتی تھی اس کی صفات اور جو گندم آج زمین پیدا کر رہی ہے اس کی صفات میں بھی فرق ہے کیونکہ اس عرصہ میں صفات باری کے نئے جلووں نے صفاتِ گندم میں زیادتی پیدا کی ہے۔معرفت ذات وصفاتِ باری کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے جیسا کہ میں بتا رہا ہوں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی صفات کے جو جلوے ہیں ان کی معرفت حاصل ہو۔اسی لئے قرآن کریم نے دنیا کی ہر چیز کو آیت قرار دیا ہے۔آیات اللہ میں سے اسے ایک چیز قرار دیا ہے۔بعض جگہ بڑی تفصیل سے ہواؤں کا چلنا ، ان کا پانی اٹھانا ، یعنی بخارات اٹھانا، پھر بادل بن جانا، پھر بادلوں کا برسنا، زمین کا روئیدگی اگا نا جنسیں پیدا کرنا، درختوں کا پت جھڑ ، بعض موسموں میں پتے جھاڑ دینا، نئے اگانا، وغیرہ وغیرہ سب کو آیات کے زمرہ میں قرآن کریم میں رکھا گیا ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کے جو فعلی جلوے ہیں یعنی جن سے یہ کائنات بنی اور کائنات کی ہر چیز کی صفات میں زیادتی ہوتی چلی جارہی ہے اور خدا تعالیٰ کے جو قولی جلوے ہیں جو کامل شکل میں شریعت کے لحاظ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب قرآن عظیم میں ظاہر ہوئے ، ان ہر دو کا جاننا۔پوری طرح معرفت حاصل کرنا، پہچاننا سمجھنا، اس کی گنہ تک پہنچنے کی کوشش کرنا۔اس کے حسن سے واقفیت حاصل کرنا، اس کی افادیت کا پتا لگانا وغیرہ وغیرہ۔ان چیزوں سے ہمیں خدا کی اور اس کی صفات کی معرفت ملتی ہے۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۷۳، ۷۴)