انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 469 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 469

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ۴۶۹ سورة الجمعة اس قسم کا سلوک کرتا ہوں۔ایک جگہ فرما یا إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ( حم السجدة : ۳۱) جنہوں نے کہا کہ رب حقیقی ہمارا اللہ تعالیٰ ہے ہم ہر قسم کی ربوبیت اور نشوونما کے لئے اس کے محتاج ہیں اسی سے مانگیں گے اسی سے لیں گے وہ دے گا تو ہماری نشو ونما ہوگی ورنہ نہیں ہوگی ثُمَّ اسْتَقَامُوا پھر وہ اپنے اس عہد پر سختی سے قائم رہتے ہیں استقامت سے قائم رہتے ہیں تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ اَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا ( حم السجدة : ۳) اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو ان کے پاس بھیجتا ہے انہیں تسلی دیتا ہے خوف کے اوقات میں، ان کو تسلی دیتا ہے جس وقت کوئی کوتاہی اور غفلت ہو جائے اور وہ بے چین ہو کر خدا سے تو بہ اور استغفار کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ ان کی تو بہ اور استغفار قبول بھی ہوئی ہے یا نہیں اور بے چینی میں ان کے اوقات گزر رہے ہوتے ہیں آسمان کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں لا تَحْزَنُوا غم نہ کرو خدا نے تمہیں معاف کر دیا۔آسمانی نشانوں کے ساتھ وہ ان کی پاکیزگی کو ظاہر کرتا ہے اس نے قرآن کریم کی عظمت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جلال کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم میں یہ اعلان کیا تھالَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ( الواقعة : ۸۰) کہ قرآن کریم کا فہم وہی شخص حاصل کر سکتا ہے جو پاک اور مطہر ہو کیونکہ یہ پاک کا کلام ہے اور پاک کے سینے میں ہی یہ نور پیدا کر سکتا ہے۔خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۴۴۲ تا ۴۵۳) آیت فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔قرآن عظیم نے اللہ تعالیٰ کے ذکر پر، ذکر باری پر ، خدا تعالیٰ کو یاد رکھنے پر بہت زور دیا ہے۔بعض مقامات میں تفصیل سے بعض باتوں کا ذکر کر کے انسان کو خدا تعالیٰ کے ذکر کی طرف توجہ دلائی ہے اور بعض آیات میں اصولی تعلیم بیان کی اور اس بنیادی حقیقت کی طرف انسان کو متوجہ کیا ہے۔سورۃ جمعہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کیا کرو۔لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ اور اس کے نتیجہ میں ہی تمہیں کامیابی ملے گی۔قرآنی تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی زندگی کی کامیابی یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی منشا کے مطابق اپنی زندگی گزارے اور یہ کوشش کرے کہ اس کی جو صلاحیتیں اور استعدادیں ہیں یا