انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 462 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 462

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ۴۶۲ سورة الجمعة پھر اس بادل کا کسی خاص جہت کی طرف چل پڑنا ہوا کا آنا اور اس کو اڑا کر لے جانا خدا کہتا ہے یہ آیت ہے، پھر کسی ایک جگہ جا کے ہوا کا رک جانا ار بادل کا ٹھہر جانا اور نہ برسنا۔خدا کہتا ہے یہ آیت ہے یا برس جانا خدا کہتا ہے یہ آیت ہے۔سینکڑوں ہزاروں تو شاید نہیں سینکڑوں تو یقینا قرآن کریم میں اس کا ئنات سے مادی کائنات سے تعلق رکھنے والے اللہ تعالیٰ کے جو عظیم جلوے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ہر جلوہ ہی عظیم ہے ان کو آیت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔تو ایک تو خَلْقِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ (ال عمران (۱۹) آیت ہوئی دوسرے زمانے کو وَ اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ (ال عمران : ۱۹۱) یہ زمانہ ہی ہے ناں۔آپ کہہ دیتے ہیں کل جو گزر گیا دن کل کا دن اور پرسوں جو آنے والا دن ہے وہ پرسوں کا دن وہ زمانہ جو ہے وہ اپنی مستقل ایک حیثیت میں آپ کے ذہن میں آتا آپ کی زندگیوں میں آتا اور ایک ایک دن جس کو آپ ایک معمولی سی چیز سمجھ کے اس پر توجہ نہ کرتے ہوئے گزار دیتے ہیں اور ایک دن آپ کو پتا لگتا ہے کہ ایک ایک دن کر کے ۸۰ سال ہماری عمر گزرگئی اور بوڑھے ہو گئے کریں جھک گئیں چلا نہیں جاتا کان جو ہیں ٹھیک طرح سن نہیں رہے آنکھیں ٹھیک طرح دیکھ نہیں رہیں وہ جو رعب اور دبدبہ خاندان کے اوپر تھا وہ بابے بڑھے کا رہا نہیں۔اور بولا ایک ایک دن تھا۔تو ایک دن بھی بڑا زبردست تھا اور واقعہ میں آیت تھا خدا کی۔یہ بھی آیت ہے اور شق قمر جو ہے وہ بھی آیت ہے قرآن کریم کی اصطلاح میں یعنی جو انبیاء علیہم السلام یا دوسرے برگزیدہ اولیاء کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ معجزات اور نشانات آسمانی دکھاتا ہے ان کو بھی قرآنی اصطلاح میں آیت کہا جاتا ہے تو اس لحاظ سے دو بنیادی طور پر قسمیں ہیں آیات کی۔ایک وہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے جو اس کائنات میں ظاہر ہوتے اور عدم سے وجود میں اور وجود سے عدم میں تبدیلی پیدا کرتے چلے جاتے ہیں وہ جلوے اسی کائنات میں ، مادی کائنات میں پیدا ہوتے ہیں اور حرکت پیدا کر دیتے ہیں عمر کو ایک دن بڑھا دیا ہر صبح سورج اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ہر صبح جو سورج چڑھااس نے ایک دن آپ کی عمر کا بڑھا دیا اور یہ ہمارا محاورہ ہے لیکن موت کہتی ہے کہ تمہارا ایک دن زندگی کا کم کر دیا۔موت نے اپنے نقطہ نگاہ سے دیکھنا ہے، ہم نے اپنے نقطہ نگاہ سے دیکھنا۔ہم کہتے ہیں ہمارا ایک دن بڑھا دیا ، موت مسکرا کے کہتی ہے ایک دن تمہارا، عمر کا کم کر دیا اور اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ