انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 461 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 461

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ۴۶۱ سورة الجمعة کی پیدائش ،حرکت اور زمانہ کو بھی آیت کہا گیا قرآن کریم میں ، یعنی سورج کی پیدائش یہ آیت اللہ ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے سورج نہیں بنایا تو تم نے بنایا کسی اور نے بنایا۔کون ہے دعویٰ کرنے والا کہ میں نے جا کے سورج کو بنادیا تھا۔جو چیز بھی اس کا ئنات میں، اس مادی دنیا میں اور جو غیر مادی ہے اس میں بھی ظہور پذیر ہوتی ہے جو عدم سے وجود میں ظاہر ہوتی ہے یعنی پہلے نہیں تھی ہوگئی ، وہ آیت ہے اس کی ایک موٹی مثال ہے تو وہ چھپی ہوئی لیکن موٹی بھی ہے وہ دے دیتا ہوں جو فلکیات کے ماہر ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو پہلا آسمان ہے سات آسمانوں میں سے جس میں ستارے اور سورج وغیرہ ہیں یہ قبیلوں میں بٹے ہوئے ہیں ستارے، یعنی ان کے اندر اپنا ایک اجتماعی زندگی ہے ان کی ، وہ ہر، ان کو انگریزی میں گلیکسی کہتے ہیں اور بے شمار سورج ایک ایک گلیکسی میں ہیں۔بے شمار سورج ایک گلیکسی میں اور ہر گلیکسی اپنے راستے پر حرکت میں ہے کسی نامعلوم طرز کی طرف اس کی حرکت ہے جہت کی طرف اس کی حرکت ہے لیکن گلیکسی اور گلیکسیز بے شمار ہیں ان کی بھی گنتی نہیں کر سکا انسان لیکن یہ حرکت پیرالل (Parallal) نہیں بلکہ اس طرح ہے یعنی ہر آن دو کلیکسیز کے درمیان فاصلہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور جب اتنا فاصلہ ہو جائے دو گلیکسی کے درمیان کہ غیر محدود بے حد و حساب سورج اس کے ایک، جس کے اندر ہوتے ہیں ناں ایک نئی گلیکسی وہاں سما سکے اتنا فاصلہ ہو جائے وہ تو کہتے ہیں وہاں وہ گلیکسی پیدا ہو جاتی ہے اب یہ جو پیدائش ہے یہ ہے خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (ال عمران : ۱۹۱) یہ آیت نہیں عظیم نہیں نشان خدا تعالیٰ کی عظمتوں اور اس کے جلال کی طرف راہنمائی نہیں کرتی یہ چیز۔تو اس چیز کو بھی آیت قرآن کریم نے کہا اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (ال عمران : ١٩) ہاں یہ ضرور کہا ہے صاحب فراست ہونا چاہیے آدمی کو پتا لگ جائے گا کہ معمولی واقعات نہیں رونما ہونے والے بلکہ خدا تعالیٰ کی عظمتوں کے نشان ظاہر کرنے والے عظیم نشان ہیں اللہ تعالیٰ کے۔اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے آیات قرآن کریم میں میں نے نوٹ تو کئے تھے بہت ساری آیات جو قرآن کریم نے سینکڑوں یہ ظاہری چیزیں ہیں پانی کا سمندروں سے بخارات کے ذریعے اٹھایا جانا قرآن کہتا ہے یہ آیات ہے پھر اس کو اس بخار کا سمٹ کے اور گاڑھا ہو جانا تھک (Thick) ہو جانا پانی کا اکٹھا ہو جانا۔جس میں سے قطرے بہہ سکیں اللہ تعالیٰ قرآن میں کہتا ہے یہ آیت ہے۔