انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 449
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۴۹ سورة الصف چاہتا ہوں کہ مالی جہاد کو بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک عظیم جہاد قرار دیا ہے اور انسان اگر عقل اور فراست رکھتا ہو تو حیران ہوتا ہے کہ وہ خود ہی ہمارے ہاتھوں میں دولت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے دو گے (اس میں سے جو میں نے تمہیں دیا ہے ) تو میں تمہیں عذاب الیم سے بچالوں گا۔پس یہ گھاٹے کا سودا نہیں یہ تو بڑا ہی نفع مند سودا ہے اور جولوگ اس سے غفلت برتتے ہیں ، جو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، جو اس کو اچھا نہیں سمجھتے، جو اس کی حقیقت کو نہیں پہچانتے جو اپنی نسلوں کی بہبود کا خیال نہیں رکھتے، جو اپنے مستقبل کی پرواہ نہیں کرتے جو اُخروی زندگی کا تصور اپنے دماغوں میں نہیں لاتے اور اللہ تعالیٰ نے جو بشارتیں دی ہیں ان بشارتوں کے مطابق خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کے حصول کیلئے کوشاں نہیں، وہ بڑے ہی خسارے میں ہیں۔وہی عذاب الیم ہے۔جس نے خدا کو ناراض کر لیا، اس سے بڑا اور کیا عذاب اس کو ملے گا۔(خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۱۸۲،۱۸۱)