انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 444 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 444

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث م م م سورة الصف اور اس کے قرب کے حصول کے لئے کیا جائے۔اور جس کے کرنے میں انسان اپنی پوری توجہ اور پوری قوت صرف کر رہا ہے۔اور اس سے جو کچھ بن آئے کر گزرے۔اسے خدا تعالیٰ مجاہدہ کے نام سے پکارتا ہے۔تو قرآن کریم کی ایک آیت بڑی وضاحت سے بتا رہی ہے کہ وقف زندگی بھی مجاہدہ کی ایک قسم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی آیت ۲۷۴ میں فرمایا کہ ہمارے احکام کے مطابق عمل کر کے اُمت محمدیہ میں کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جنہیں دین کی خدمت میں لگایا گیا ہوگا۔اور مشاغل دنیا سے انہیں روک دیا گیا ہوگا۔(اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ ) تو بتا یا کہ ان کو تمام ان مشاغل سے روک دیا جائے گا کہ جو سبیل اللہ کے مشاغل نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں کے علاوہ دنیا کمانے اور دنیا کی عزت حاصل کرنے کے تمام راستے ان پر بند کر دیئے جائیں گے۔تو جن لوگوں پر اُحْصِرُوا فی سَبِیلِ اللہ کا اطلاق ہوتا ہے وہ بھی مجاہدین ہیں۔ایک قسم کا مجاہدہ اور جہاد کرنے والے ہیں۔اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ لوگ جن پر دشمن ،مخالف ہمنکر دنیا کی راہیں بند کر دیتا ہے۔آئے دن ہمارے سامنے ایسی مثالیں آتی رہتی ہیں کہ بعض لوگ بعض احمدیوں کو صرف احمدیت کی وجہ سے نوکری نہیں دیتے یا امتحانوں میں اچھے نمبر نہیں دیتے کہ وہ ترقی نہ کر جائیں۔یا اگر تا جر ہیں تو ان کی تجارت میں روک ڈالتے ہیں۔اگر زمیندار ہیں تو طرح طرح سے ان کو تنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔خصوصاً جہاں نئے احمدی ہوں اور تعداد میں بھی تھوڑے ہوں وہاں اس قسم کا سلوک اکثر کیا جاتا ہے۔ایسے لوگوں پر خدا کے لئے دنیا کی تمام راہیں اگر بند ہو جائیں تو قرآنی محاورہ کے مطابق وہ اُحْصِرُوا فِي سَبِیلِ اللہ کے گروہ میں شامل ہوتے ہیں۔دوسری قسم مجاہدہ کی انفاق فی سبیل اللہ ہے۔جو آیات میں نے پڑھی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ دنیا میں نے تمہیں دی ہے۔چاہو تو دنیا کا ایک حصہ خرچ کر کے مجھے حاصل کر لو میری محبت کو پالو اور اگر چاہو تو دنیا کے کیڑے بن کر میری لعنت، میرے غضب اور میرے قہر کے مورد بن جاؤ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انفاق پر بڑا زور دیا ہے انفاق فی سبیل اللہ کی کوئی حد بندی نہیں البتہ