انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 443 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 443

۴۴۳ سورة الصف تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث قیام کے لئے کوشش کرتے تھے۔اور خدائے واحد کی صفات کو بلند آواز سے لوگوں تک پہنچاتے تھے۔پھر کچھ لوگ آپ کے ساتھ شامل ہوئے اور اہل مکہ نے اور ان لوگوں نے جو مکہ کے گر در ہنے والے تھے اتنے دکھ اور ایذائیں اس چھوٹے سے گروہ کو دیں کہ دنیا کے تختہ پر دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا گروہ نہیں ہے کہ جس کو اتنا لمبا عرصہ اس قسم کی شدید تکالیف اور ایذاؤں میں سے گزرنا پڑا ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان ایک اور طرح سے لینا چاہا۔وہ یوں کہ حکم دیا ہمیشہ کے لئے اپنے گھروں کو چھوڑ دو اور اپنے رشتہ داروں کو جو مسلمان نہیں ہیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دو۔اور اس ماحول کو بھی جس میں تم رہتے ہو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر دوسری جگہ (مدینہ ) چلے جاؤ۔چونکہ کچھ عرصہ بعد تک بھی حالات ویسے ہی رہے اس لئے یہ ہجرت قائم رہی لیکن اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چونکہ اس قسم کی ہجرت کا ماحول اب نہیں رہا اس لئے اب اس قسم کی ہجرت بھی نہیں رہی مگر وہ ہجرت کا اطلاق تھا ایک خاص واقعہ ہجرت پر۔ورنہ ہجرت اپنے عام معنی کے لحاظ سے قیامت تک کے لئے قائم ہے اس لئے قرآن کریم میں آتا ہے هَاجَدُوا اور قرآن کریم کا کوئی لفظ بھی منسوخ نہیں ہوسکتا۔تو فرماتا ہے کہ وہ لوگ خدا کی خاطر اپنوں کو اور اپنی املاک کو چھوڑتے ہیں ( مثلاً آج کل کے زمانہ میں واقفین زندگی اپنے گھروں کو چھوڑ کر غیر ممالک میں چلے جاتے ہیں جہاں کے رواج بھی مختلف ، جہاں کے حالات بھی مختلف جہاں کے کھانے بھی مختلف۔پھر بڑی تنگی اور بڑی سختی کے دن وہاں گزارتے ہیں ) یہ بھی مُهَاجِرٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَا مُجَاهِدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ہیں۔(۲) دوسرے یہاں یہ فرمایا کہ وہ لوگ بھی مجاہد ہیں الَّذِینَ اوَوُا وَ نَصَرُوا جوان بھائیوں کو جو مظلومیت کی حالت میں ان کے پاس جاتے ہیں۔اپنے گھروں میں جگہ دیتے ہیں۔اور ان کی امداد کرتے ہیں۔کیونکہ یہ بھی مجاہدہ میں شامل ہے۔پس فرمایا کہ یہ دو قسمیں جو ہیں ایک ہجرت کرنے والوں کی اور دوسرے مہاجروں کو پناہ دینے والوں کی۔اوليكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا یہ وہ مجاہد ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ اعلان کرتا ہے کہ یہ حقیقی مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے لئے مغفرت اور رزق کریم مہیا کرے گا۔واقفین زندگی بھی تحریک جدید کے ایک مطالبہ کے تحت مانگے گئے تھے۔اور یہ مطالبہ بھی ایک شکل ہے مجاہدہ کی۔کیونکہ ہر وہ کام (جیسا کہ پہلی آیات سے واضح ہوتا ہے ) جو خدا کی رضا کی خاطر