انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 442
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۴۲ سورة الصف لئے نیکی کے راستوں پر شوق اور بشاشت کے ساتھ قدم مارا۔أُولَبِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللهِ یہی وہ لوگ ہیں جو امید رکھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں حاصل ہو جائے گی۔أوليكَ يَرْجُونَ رَحمت اللہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھ سکتے ہیں۔یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں ضرور مل جائے گی۔پھر اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ جو شخص بدیوں کو ترک نہیں کرتا اور نیکیوں کو اختیار نہیں کرتا۔وہ یہ امید نہیں رکھ سکتا کہ اللہ تعالیٰ اس سے رحمت کے ساتھ سلوک کرے گا۔یہ امید کہ میرا رب میرے ساتھ رحمت کا سلوک کرے گا وہی رکھ سکتا ہے جو بدیوں کو ترک کرتا اور نیکی کی راہوں کو اختیار کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔پس فرمایا کہ مجاہدہ کرو پھر فرمایا کہ تم مجاہدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اس صورت میں صرف امیدوار ہو سکتے ہو ہاں اگر تم بدیوں کو چھوڑ نہیں اور نیکیوں کو اختیار نہ کرو تو پھر تم کس طرح امید رکھ سکتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے رحمت کا سلوک کرے گا۔لیکن اگر تم ایسا کر لوتو ابھی صرف یہ ایک امید ہے۔ابھی واقع نہیں۔جب تک اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو۔اور جب اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو جائے تو یہ امید حقیقت بن جاتی ہے۔مجاہدہ کے معنی کو جب ہم قرآن کریم کی دوسری آیات کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل باتوں کو جہاد یا مجاہدہ میں شامل کیا ہے۔اور یہاں میری مراد مجاہدہ سے نیکیوں کا اختیار کرنا ہے۔جو مجاہدہ کا ایک پہلو ہے۔بدیوں کو چھوڑ نا دوسرا پہلو ہے مگر میں اس وقت پہلے حصہ کے متعلق ہی بیان کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ سورۃ انفال میں فرماتا ہے : وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ اووا وَ نَصَرُوا أُولبِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا (الانفال: ۷۵) اس آیت میں مجاہدہ کی مندرجہ ذیل قسمیں بیان کی گئی ہیں :۔(۱) ایک مجاہدہ ہے جو ہجرت کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ایک تو وہ بڑی ہجرت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے کی اور ایک وقت آنے پر آپ نے فرمایا کہ اب اس قسم کی ہجرت نہیں رہی۔پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے اور خدا تعالیٰ کی توحید کے