انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 441 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 441

۴۴۱ سورة الصف تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث دہی کروں کہ اگر تم یہ سودا اپنے رب سے کر لو۔تو تم اس عذاب الیم سے بچ جاؤ گے، جو ان لوگوں کے لئے مقدر ہے جو اس قسم کا سودا اور اس قسم کی تجارت اپنے پیدا کرنے والے سے نہیں کرتے فرما یا۔تُؤْمِنُونَ بِاللهِ ایک تو یہ کہ تم اپنے دل اور زبان اور اپنی کوششوں سے یہ ثابت کرو کہ تم واقعہ میں ایمان لائے ہو۔یہ تمہارا محض ایک کھوکھلا اور زبانی دعوی ہی نہیں ہے۔اور اس کے ساتھ یہ کہ تُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ تم اللہ کے راستہ میں جہاد کرو۔اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جہاد اور مجاہدہ کرو۔سبیل اس راہ کو کہتے ہیں جو کسی خاص جگہ پر پہنچانے والی ہو۔تو سبیل اللہ وہ راستہ ہے۔جو خدا تعالیٰ تک پہنچادیتا ہے۔وہ راہ جو خدا تعالیٰ کا مقرب بنادیتی ہے۔وہ راہ جو خدا کی رضا کے حصول میں ممد و معاون ہے وہ راہ جس کے آخر پر اللہ تعالیٰ کی رحمت انسان کو مل جاتی ہے۔اور پھر انسان بھی اپنے تمام دل، اپنی تمام روح اور اپنے تمام حواس کے ساتھ اپنے مولے سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔بلکہ اس کے روئیں روئیں سے اپنے رب کی محبت پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی ہوتی ہے۔تو اس آیت میں یہ فرمایا کہ جس تجارت کی طرف میں تمہیں بلاتا ہوں اور جس کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے اپنی جانوں کو مجاہدہ میں ڈالو۔اور تمہارا یہ مجاہدہ اور تمہارا یہ جہاد اموال کے ذریعہ سے بھی ہو۔اور تمہارے نفسوس کے ذریعہ سے بھی ہو ذلکم خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ اور اگر تمہیں حقیقت کا علم ہو جائے تو تم سمجھ جاؤ کہ دراصل اسی چیز میں تمہاری بھلائی ہے۔اس خیر لکم کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ آیت ۲۱۹ میں یوں فرمائی ہے۔اِنَّ الَّذِينَ b امَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَبِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - که وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے مجاہدہ کیا اس رنگ میں کہ انہوں نے خواہشات نفسانی کو خدا تعالیٰ کی خاطر چھوڑا۔اس رنگ میں کہ انہوں نے اپنے پیدا کرنے والے کی خوشنودی کے حصول کے لئے گناہوں سے اجتناب کیا۔( هَاجَرُوا ) اور انہوں نے اپنے ماحول، اپنے املاک (اپنی جائدادوں) اپنے کنبہ اور اپنے شہر اور اپنے علاقہ کو خدا تعالیٰ کی خاطر ترک کیا۔اور خدا تعالیٰ کی رضاء کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلے گئے۔وَجَاهَدُوا اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول کے