انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 440
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۴۰ سورة الصف عظیم منصوبہ ہے اور یہ ایک عظیم خدائی تدبیر ہے جس کے پورا ہونے کا یہی وقت ہے۔تاہم اس کے پورا ہونے کے لئے جن قربانیوں کی ضرورت ہے ان کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔آپ اپنے نفس کے لئے یہ قربانیاں نہیں دیں گے اور نہ اپنے خاندانوں کے لئے۔دنیا کی دولت کے لئے یا دنیا کے اقتدار کے لئے آپ یہ قربانیاں نہیں دیں گے بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں گاڑنے کے لئے جماعت احمدیہ قربانیاں دے گی۔وباللہ التوفیق۔خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۲۳۳، ۲۳۴) انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جنتوں کے لئے پیدا کیا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض ہی یہ تھی کہ نوع انسانی کو بحیثیت نوع انسانی ہدایت راستہ دکھایا جائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان کا رجوع ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار ان کے دلوں میں پیدا ہو اور خبر یہ دی گئی تھی کہ هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلہ یہ جو غلبہ ہے اس کے متعلق ہمارے پہلے بزرگوں نے کہا ہے کہ اسلام کا جو آخری غلبہ ہے وہ آخری زمانے میں مقدر ہے کہ جب مہدی پیدا ہوں گے اور ان کی جماعت کے ذریعہ سے اسلام ساری دنیا میں غالب آئے گا۔یہ جو تد بیر ہے، یہ جو منصوبہ ہے آسمانوں کا ، اس کے لئے میں اور تم پیدا کئے گئے ہیں تا کہ خدا تعالیٰ کا یہ منشا پورا ہو کہ کم از کم اس زمانہ میں ہی انسانوں کی بڑی بھاری اکثریت سیدھے راستے پر چل کر خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کے اندر داخل ہو جائے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ صرف وہ زمانہ نہیں تھا بلکہ آپ کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے پس اس زمانہ میں ایسے حالات پیدا ہوں کہ نوع انسانی کا دل بحیثیت نوع انسانی خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیت لیا جائے۔(خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۱۷۳، ۱۷۴) آیت ۱۱ ۱۲ يَاَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُم مِّنْ عَذَابِ اَلِيْهِ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ تُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بامُوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ ، ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ط اے وہ لوگو! جو دعوے کرتے ہو کہ ہم خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس تعلیم پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف لائے ہیں۔ایمان لاتے ہیں۔آؤ میں ایسی تجارت کی نشان