انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 433
تفسیر حضرت خلیفة اسم الثالث ۴۳۳ سورة الحشر ہے کہ اللہ ایک ہے اپنی ذات میں بھی اور اپنی صفات میں بھی۔اس وقت میں اللہ کی ذات کی بات کروں گا۔اللہ کی صفات کے بارہ میں انشاء اللہ اگلے کسی خطبہ میں بیان کروں گا۔اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔کوئی ذات اس کی ذات جیسی نہیں ہے۔شرکت چار قسم کی ہو سکتی ہے لیکن سورۃ اخلاص میں ان چاروں قسم کی شرکت کی نفی کی گئی ہے یعنی کسی کا کسی کی ذات میں شریک ہونے کا انحصار چار باتوں پر ہے اور سورۃ اخلاص میں ہر بات کی نفی کی گئی ہے۔اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔اللہ ایک ہے۔دو یا تین یا چار یا پچاس یا سو یا ہزار الہ نہیں۔بت پرستوں نے اللہ کے بے شمار شریک بنالئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت خانہ کعبہ میں کفار نے بہت سے بت بٹھا رکھے تھے۔غرض ایک تو یہ بت پرست ہیں جنہوں نے اللہ کو ایک نہیں سمجھا اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے تین خدا بنالئے اور بعض ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے ایک کو بھی نہیں مانا لیکن اسلام کہتا ہے اللہ ہے اور وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔عدد کے لحاظ سے وہ ایک ہے اور مرتبہ کے لحاظ سے اللہ کا کوئی ہم پلہ اور ہم مرتبہ نہیں ہے۔واجب الوجوب ہونے میں ایسی چیز یا کوئی ایسا انسان یا جاندار یا فرشتہ یا جن یا جو مرضی کہہ لو غرض کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو واجب الوجوب ہو یعنی جس کا ہونا ضروری ہو۔اللہ کے سوا ہر چیزا اپنی ذات کے لحاظ سے ہلاک ہونے والی ہے اور كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان (الرحمن: ۲۷) کے اعلان کے نیچے آتی ہے۔پس مرتبہ وجوب میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور اسی کے اندر آتا ہے محتاج الیہ ہونا اور اس میں بھی خدا تعالیٰ کا جو بے نیاز ہے کوئی شریک نہیں ہے یعنی خدا تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز کسی غیر کی احتیاج رکھتی ہے۔صرف خدا تعالیٰ ایک ایسی ہستی ہے جس کو کسی چیز کی احتیاج نہیں اور ہر چیز خدا تعالیٰ کی احتیاج رکھتی ہے مگر خدا تعالیٰ مرتبہ وجوب میں اکیلا ہے اور اکیلا ہی اس خصوصیت کا حامل ہے اور اس میں منفر د اور یگانہ ہے۔وہ صد اور غنی ہے اسے کسی کی احتیاج نہیں، ہر دوسرے کو اس کی احتیاج ہے۔تیسرا شریک خاندانی ہوا کرتا ہے۔خاندان کے مختلف افراد ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں۔پس رشتے کے لحاظ سے اور حسب نسب کے لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے۔فرمایا لَم يَلِد وَلَمْ يُولَدُ (الاخلاص: ۴) نہ اس کو کسی نے جنا اور نہ اس کا آگے کوئی بیٹا ہے وہ واجب الوجوب ہے وہ ازلی ہے وہ ابدی ہے اور اسے کسی چیز کی احتیاج نہیں۔باپ ہونا بھی احتیاج