انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 432
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۳۲ سورة الحشر رہتے ہیں ان کے لئے اس دنیا کو بھی جنت بنا دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی ان کے لئے جنت مقدر ( خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۱۵۵ تا ۱۵۷) ہوتی ہے۔آیت ۲۳ تا ۲۵ هُوَ اللهُ الَّذِى لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ : دو ج هُوَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمُ ) هُوَ اللهُ الَّذِى لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السّلمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَيَّرُ سُبُحْنَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔میں نے دین اسلام کی جو خصوصیات بیان کی تھیں ان میں پہلی خصوصیت یہ بتائی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق اسلام نے ہمیں ایک کامل تعلیم دی ہے۔ایک مکمل بیان خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق قرآن کریم ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق ہم بات یہاں سے شروع کریں گے کہ وہ اللہ" ہے اور قرآن کریم کی اصطلاح میں اللہ اسم ذات ہے۔قرآن کریم میں بیسیوں جگہ بلکہ شاید سینکٹروں جگہ آپ دیکھیں گے کہ اللہ وہ ہے جو عزیز ہے اللہ وہ ہے جو حکیم ہے۔وعلی ھذا القیاس۔فرمایا اللهُ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ (البقرة : ۲۵۶) اللہ الْحَقُّ ہے۔الْقَيُّومُ ہے۔اَلْمَلِكُ ہے۔القُدُّوسُ ہے۔السّلم ہے۔غرض بہت سی صفات ہیں جن سے اللہ متصف بتایا گیا ہے کہ اللہ یہ ہے اور اللہ کی یہ صفات ہیں۔پس اللہ اسم ذات ہے اور اللہ ان تمام صفاتِ حسنہ کا موصوف ہے جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں۔جب ہم اللہ کہتے ہیں تو ہمارے یعنی قرآن کریم پڑھنے والوں کے ذہن میں وہ تمام صفات آجاتی ہیں جو اس کے لئے بطور وصف کے ہیں۔دوسری بات یہ ہے اور یہ ایک انتہائی بنیادی بات ہے کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اور میرے کسی خطبہ میں بھی اس کا ذکر آیا تھا کہ ایمان کے جتنے اصول ہیں ان کا بنیادی اصل یہی ہے کہ لا إله إلا الله اللہ ایک ہے۔کلمہ طیبہ میں یہی اعلان