انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 431 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 431

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۴۳۱ سورة الحشر تبدیل ہو رہا ہوتا ہے اور ہمیں یہ تاکید کی گئی ہے کہ ہم دنیا میں اس طور پر زندگی گزاریں کہ مستقبل حال میں تبدیل ہو کر ہمارے لئے تکلیف کا موجب نہ بنے لیکن ایک نہ ختم ہونے والا زمانہ بھی ہے جو اس زندگی میں حال کی شکل اختیار نہیں کرتا اور وہ ہے اُخروی زندگی کالا متناہی زمانہ۔وہ بھی مستقبل ہی ہے یہ زندگی اُس زندگی کا مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دائمی ہے۔متقی لوگ اس بات پر بھی نظر رکھتے ہیں کہ وہ اس زندگی میں اُس مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کرتے رہیں تا کہ جب وہ مرنے کے بعد اُس زندگی میں داخل ہوں تو وہاں انہیں تکلیف نہیں بلکہ راحت میسر آئے اور وہ زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق آرام سے گزرے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح اور کس طریق پر ہم مستقبل کو سنوار سکتے ہیں؟ دوسری آیت میں اس کا جواب دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مستقبل کو سنوارنے کا طریق یہ ہے کہ اپنے اللہ کو یاد رکھو۔جو قو میں پانسلیں اللہ کو یاد نہیں رکھتیں، اللہ تعالیٰ ایسے سامان کرتا ہے کہ وہ اپنے نفسوں کو بھول جاتی ہیں یعنی اپنی اور اپنی نسلوں کی فلاح پر ان کی نظر نہیں رہتی۔جہاں تک خدا تعالیٰ کو بھولنے کا تعلق ہے یہ دو طرح پر ہوتا ہے۔ایک بھولنا یہ ہے کہ ایسا شخص خدا تعالیٰ کی عبادت نہ کر کے ، اس سے اس کی پناہ نہ مانگ کر ، اس کے قہر اور غضب سے نہ ڈر کر ، اس کی محبت اور اس کے پیار کی قدر نہ جان کر ، اس کی صفات کا رنگ اپنے پر نہ چڑھا کر اس سے یکسر غافل ہو جاتا ہے۔ایک بھولنا خدا کو یہ ہے کہ اس نے جو احکام انسان کو اس کے اپنے نفس کے متعلق ، دوسرے بنی نوع کے متعلق ، معاشرہ کے متعلق، اقتصادیات کے متعلق ، سیاست کے متعلق دیئے ہیں انہیں تو وہ نظر انداز کر دیتا ہے اور اپنی چلانے اور من مانی کرنے لگتا ہے۔خدا تعالیٰ کو بھولنے کا نتیجہ کیا ہوتا؟ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے تیسری آیت میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ ایسے لوگوں پر خدا کے غضب کی آگ بھڑکتی ہے۔وہ اس دنیا میں بھی خسارہ میں رہتے ہیں اور اگلے جہان میں بھی خسارہ ان کے لئے مقدر ہوتا ہے کیونکہ وہاں جہنم ان کا ٹھکانہ ہوگی۔برخلاف اس کے جو لوگ تقویٰ اللہ پر قائم ہو کر خدا تعالیٰ کو ہمیشہ یادر کھتے ہیں، اُس کی عبادت بجالاتے ہیں ، اس سے اس کی پناہ طلب کرنے میں سُست نہیں ہوتے ، اپنے آپ کو اُس کی صفات کے رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اور اس کے جملہ احکام بجالا کر دنیوی اور اُخروی فلاح کے لئے ہمیشہ کوشاں