انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 427
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۲۷ سورة المجادلة میں بھی ہوتی ہے وسعت نیکیوں کی توفیق میں بھی ہوتی ہے۔وسعت خدا تعالیٰ کے فضل میں بھی ہوتی ہے اس کی برکت میں بھی ہوتی ہے اس کی رحمت میں بھی ہوتی ہے یہ ہر قسم کی وسعتیں اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور پھر اس رسول کے نائب امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی مجلسوں میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے الہام کے مطابق اپنے مکانوں میں وسعت پیدا کرو گے۔یعنی خود سمٹ جاؤ گے تا کہ وسیع تر ایر یا جماعتی اغراض کے لئے پیش کیا جا سکے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم پر فضل اور رحم کر کے ہر لحاظ سے وسعت کے سامان پیدا کر دے گا۔تمہارے مکانوں میں بھی زیادہ کمرے بن جائیں گے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۵۲۹ تا ۵۳۱) آیت ۲۰ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَنُ فَانْسُهُمْ ذِكْرَ اللهِ أُولَبِكَ حِزْبُ الشَّيطن ، اَلَا اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَنِ هُمُ الْخَسِرُونَ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمنِ نُقيضُ لَهُ شَيْطنا جو شخص رحمن خدا کے ذکر سے منہ موڑتا ہے اس پر ایک شیطان مستولی کر دیا جاتا ہے۔فَهُوَ لَه قرین اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے اور شیاطین انسان کو خدا کے راستے سے روکتے ہیں اور باوجود اس کے کہ شیطان ان کو خدا کی راہ سے روک رہے ہوتے ہیں یہ لوگ جن کا قرین شیطان ہوتا ہے سمجھتے ہیں کہ وہ بڑے ہدایت یافتہ ہیں يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَنُ میں نے پہلے جو آیت پڑھی ہے اس میں یہ کہا گیا تھا کہ جو شخص ذکر رحمن سے منہ موڑتا ہے اس پر ہم شیطان مستولی کر دیتے ہیں جو اس کا قرین بن جاتا ہے اور جس کا قرین شیطان بنتا ہے اس پر وہ آہستہ آہستہ اثر انداز ہوتا ہے اور پھر اس اثر سے اِسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطن شیطان ان پر غالب آ جاتا ہے۔فَانهُم ذکر اللہ پہلے تو ان پر کچھ گھڑیاں ذکر کی اور کچھ غفلت کی آتی تھیں اب آہستہ آہستہ غفلت بڑھتی جاتی ہے اور ذکر کم ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ذکر غائب ہوجاتا ہے اور غفلت ہی غفلت طاری رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ أُولَيكَ حِزْبُ الشَّيطن پس وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتے اس کے ذکر سے منہ موڑتے ہیں پہلے شیطان ان کا