انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 426 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 426

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۲۶ سورة المجادلة اور بنالے اور اگر تین کمروں کی بجائے چھ کمرے ہو جائیں تو اس جگہ میں وسعت پیدا ہو جائے گی یعنی پہلے تین کمرے تھے اب چھ کمرے ہو گئے اور ایسے موقع پر مکان میں وسعت اس طرح بھی پیدا ہوتی ہے کہ پہلے اس شخص نے تین کمروں میں سے دو کمرے اپنے گھر کے لئے رکھے تھے اور ایک کمرہ جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے لئے دیا تھا لیکن اب جس وقت جماعت کو زیادہ ضرورت پڑی تو اس نے تین کمروں میں سے دو کمرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کے لئے جماعت کو دے دیئے اور ایک کمرہ اپنے لئے رکھا تو جہاں تک سلسلہ کی ضرورت کا تعلق ہے وہ مکان وسیع ہو گیا کیونکہ اس شخص نے ایک مزید کمرہ جماعتی اغراض کے لئے پیش کر دیا بالکل اسی طرح جس طرح مجلس میں وہ لوگ آرام سے بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے تین ساڑھے تین یا چار سو کی جگہ لی ہوئی تھی لیکن جب کہا گیا کہ جگہ یا زمین تنگ ہو گئی ہے اور نئے آ کر بیٹھنے والے خدا تعالیٰ کے فضل سے زائد ہو گئے ہیں اس لئے کھل جاؤ اور ان نئے آنے والوں کے لئے جگہ بناؤ۔تو وہ سمٹ گئے۔اور اس طرح اسی جگہ میں مزید کچھ آدمیوں کے لئے بیٹھنے کے لئے گنجائش نکل آئی اور اس طرح ایک قسم کی وسعت پیدا ہو گئی۔غرض وَشِعُ مَحانَكَ میں ایک حکم یہ بھی ہے کہ ضرورت کے مطابق تم سمٹ جاؤ اور جماعتی کاموں کے لئے اپنے مکانوں میں وسعت پیدا کرو۔پہلے تم جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک کمرہ جماعت کو دیتے تھے اب ایک سے زائد کمرے دو۔پس کل جب میں اس الہام کے متعلق سوچ رہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے میری توجہ اس طرف پھیری کہ دراصل اسے قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں کہنا چاہئے جو میں نے ابھی پڑھی ہے اور اسی وجہ سے میں نے کہا ہے کہ اس الہام میں بھی ایک بشارت ہے۔کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ جب تمہیں یہ کہا جائے کہ مجلس میں اور آدمی آگئے ہیں تم ان کے لئے جگہ بناؤ۔فَافْسَحُوا تم تنگ ہو کر بیٹھو اور آنے والوں کو جگہ دو یفسح الله لكم اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے وسعت کے سامان پیدا کر دے گا۔اس آیت کا جو مفہوم ہے اس سے یہ معلوم ہوگا کہ یہاں کوئی معین وسعت مراد نہیں۔بلکہ وسعت مکان کی بھی ہوتی ہے۔وسعت اولا د کی بھی ہوتی ہے، وسعت اولاد سے خوشی میں بھی ہوتی ہے قرآن کریم کہتا ہے تم اپنی اولاد کے لئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ انہیں تمہاری آنکھوں کے لئے ” قرۃ العین، یعنی ٹھنڈک بنائے اب اگر اس ٹھنڈک میں زیادتی ہو جائے تو یہ بھی ایک وسعت ہے۔پھر وسعت دل کے حوصلہ