انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 425 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 425

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۲۵ سورة المجادلة آیت ۱۲ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجْلِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَح اللهُ لَكُمْ وَإِذَا قِيلَ الْشُزُوا فَانْشُزُوا يَرْفَعَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَتِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ دوسری بات جو میں اس وقت دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمایا تھا۔وسّع مكانك اس الہام کی بہت سی تفاصیل اور تشریحیں اور معانی ہمارے مختلف دوستوں کے ذہنوں میں آتے رہتے ہیں اور جماعت کے دوستوں کے سامنے بھی بیان ہوتے رہتے ہیں۔لیکن جب میں اس سلسلہ میں کل سوچ رہا تھا تو میری توجہ قرآن کریم کی اس آیت کی طرف گئی إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَحُوا فِي الْمَجْلِسِ فَأَفْسَحُوا يَفْسَحَ اللهُ لَكُمْ - فسح کے مصدر اور ف س ح کے مادہ کے معنی بھی لغوی لحاظ سے وسعت کے ہیں اور یہاں قران کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب تمہیں کہا جائے کہ تم اپنی مجالس میں وسعت پیدا کرو تو تم اپنی مجالس میں وسعت پیدا کر دیا کرو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اپنے رحم اور اپنے فضل سے تمہارے لئے حقیقی وسعتیں پیدا کرتا چلا جائے گا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام وَشِعْ مَكَانَہ میں ایک زبر دست بشارت بھی پائی جاتی ہے اور اس آیہ کریمہ کی روشنی میں اس الہام کے یہ معنی ہوں گے کہ جس وقت خدا تعالیٰ یا خدا تعالیٰ کے سلسلہ کو ضرورت ہو اس وقت اے مرکز کے رہنے والو! اے وہ لوگو! جن کے مکانات مرکز میں ہیں۔تم اس قسم کی وسعت اپنے گھروں میں پیدا کر لیا کرو جس قسم کی وسعت مجالس میں پیدا کرنے کا اس آیہ کریمہ میں کہا گیا ہے اب اس آیہ کریمہ میں جس وسعت کا ذکر ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مجلس پہلے ۲۰ × ۲۰ فٹ کے ایریا اور جگہ میں ہو رہی تھی اب وہ ۵۰×۵۰ فٹ کے ایریا میں ہوتی ہے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پہلے ۲۰ × ۲۰ فٹ کے ایریا میں ۲۰ آدمی بیٹھے ہوئے تھے تو اب اس قدر جگہ میں اس حکم کی تعمیل کے نتیجہ میں مثلاً تیں یا چالیس آدمی بیٹھ گئے پس تفسحوا کھل جاؤ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تنگ ہو کر بیٹھوتا دوسرے لوگ بھی بیٹھ جائیں دوسرے آنے والوں کے لئے جگہ کھول دیں قرآن کریم نے ہمیں یہاں بتایا ہے کہ جگہ دوطرح کھلتی ہے۔ایک تو اس طرح کہ جس شخص کے مکان میں تین کمرے ہیں۔وہ تین کمرے