انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 424
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۲۴ سورة المجادلة آیت إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطن لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَيْسَ بِضَارِهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ ۖ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ایک اور فائدہ (جو بڑا اہم اور بنیادی ہے) جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے سے حاصل ہوتا ہے یہ ہے کہ دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں جس پر اگر ہم کامل بھروسہ اور اعتماد رکھیں اور اس پر توکل کریں تو وہ ہر قسم کی مضرتوں سے ہمیں محفوظ رکھ سکتا ہو لیکن اگر ہمارا تو کل اور بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہو تو ہم اسی معنی میں ہر قسم کی مضرتوں سے محفوظ رہیں گے کہ اگر امتحان کے طور پر کوئی مضرات پہنچے تو اس انعام کے مقابلہ میں جو اس کے نتیجہ میں ہمیں پہنچتا ہے اس کو مضرات دکھ یا درد نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس مضرت میں بھی بڑی لذت اور سرور ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ مجادلہ میں فرماتا ہے۔وَلَيْسَ بِضَارِهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ کہ منکر اسلام اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر اسلام اور مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اس لئے مومن کو چاہیے کہ صرف اللہ تعالیٰ پر توکل کرے ابتلا اور امتحان میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں مگر وہ اس لئے نہیں آتے کہ وہ اسلام یا مسلمانوں کو نا کام کردیں بلکہ وہ اس لئے آتے ہیں کہ جو مقصد اللہ تعالیٰ نے اس وقت پورا کرنا چاہا ہے وہ حاصل ہو اور خدا تعالیٰ کے مقرب بندوں کی خوبیاں دنیا پر ظاہر ہوں اور دنیا جان لے کہ خدا تعالیٰ کے یہ بندے انتہائی دکھوں اور تکلیفوں کے وقت بھی بے وفائی نہیں کیا کرتے بلکہ پختگی کے ساتھ اسی کے دامن سے چھٹے رہتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں وہ با وفا بھی وفا کا سلوک کرتا اور ان کے ذریعہ سے دنیا میں اپنے مقصد پورا کرتا اور ان کے ذریعہ سے دنیا میں اپنے انعاموں کی بارش برساتا ہے اور ان پر اپنے انعام اور احسان کو کمال تک پہنچادیتا ہے پس محض اللہ پر اور صرف اللہ پر ہی تو کل اور بھروسہ رکھنا چاہیے۔وَدَعْ اذْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَی الله (الاحزاب : ۴۹) ان کی ایذا دہی کو نظر انداز کر دو کیونکہ وہ اس قابل ہی نہیں ہے کہ انسان اس کی طرف متوجہ ہو تو گل علی اللہ اللہ پر توکل رکھو اور اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل رکھو گے تو تمہیں یہ معلوم ہو جائے گا تم پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ ہی کارسازی میں کافی ہے اس کی مدد سے انسان اپنے مقصد کو حاصل کرتا ہے اور اسے چھوڑ کر اسے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۳۹۱، ۳۹۲)