انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 423 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 423

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيُطنِ الرَّحِيمِ ۴۲۳ سورة المجادلة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة المجادلة آیت اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَيَتَنْجَونَ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَإِذَا جَاءُوكَ حيوكَ بِمَا لَمْ يُحَيِكَ بِهِ اللهُ وَ يَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَو لَا يُعَذِّبُنَا اللهُ بِمَا نَقُولُ : حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ ووود -- پتو ایسا قول توجس کے ساتھ نہ اعتقاد ہو اور نہ عمل منافق کا قول ہوتا ہے جو کسی لحاظ سے بھی قابل التفات نہیں ہوتا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قولِ بے عمل کا کھوکھلا پن ظاہر کرنے کے لئے منافقوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے وَ اِذَا جَاءُ وَكَ حَيْرُكَ بِمَا لَمْ يُحَيْكَ بِهِ اللهُ وَ يَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللهُ بِمَا نَقُولُ یعنی اے رسول ! جب منافق تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ایسے لفظوں سے دعا دیتے ہیں جن میں خدا نے دعا نہیں دی۔مراد یہ کہ دعا میں بناوٹ کے طور پر مبالغہ سے کام لیتے ہیں اور پھر اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ کیوں اللہ ہمارے منافقانہ قول کی وجہ سے ہمیں عذاب نہیں دیتا۔اسی لئے قرآنی محاورہ کی رُو سے قول احسن وہی قول ہوگا جس میں ظاہری الفاظ صحیح عقیدہ اور عمل تینوں شامل ہوں۔یہ معنے امام راغب نے مفردات میں کئے ہیں اور استدلال انہوں نے قرآن مجید کی اس آیت سے کیا ہے الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ انہوں نے اس آیت سے استدلال کر کے قول احسن میں اقرار، اعتقاد، اور عمل تینوں کو شامل کیا ہے۔(خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۱۴۰)